Wednesday, January 13, 2016

مزاح پارے


مجھے امید ہی نہیں، یقین ھے تم ٹھیک ھو بالکل۔ اس لیے نہیں کے،فوٹو میں ٹھیک لگ رھے تھے-بلکہ اس لیے کہ تم نے پچھلے خط کا جواب بھی حسب معمول تاخیر سے دیا تھا

...میں کھنی آں آپ ای سدھر جاؤ تسی تے بھتر اے مینوں نان وائیلنٹ ای رھن دیو......
سو ونٹرز بیگین ھمممم....
ان کرسمس کی چھٹیوں میں تو آؤ گے نا کہ تب بھی وھاں سانتا کلاز کا کاسٹیوم پہنے گفٹس بانٹنےھیں تم نے....
ویسے تم بھی اپنی نوعیت کے واحد سانتا کلاز ھوگے جس نے معصوموں کی بجائے۔۔ پھپے کٹنیوں میں بانٹنے گفٹ...میں قسمے بڑے شدید غصے اچ آں او جیڑی بلونڈ ڈائی والی ڈایریا وائٹ اے اونے میری کو پنجابی اچ گالیاں کھانیاں نے....ایڈے کادی ھمسائیگی اے جیڑی او تواڈے لان ایچوں ای نھیں باھر نکلدی....وڈی ایلیسیا تے ویکھو....
ایلیسیا سے یاد آیا....سنو! جان سنوو مر گیا.....ھاااا کیا رچ ڈائیلاگ بول کے مرا ھے...
یو نو جان سنو! یو نو نتھنگ..
YOU know Jhon Snow YOU know nothing...
خیر یو نو نتھنگ سے یاد آیا تمھاری بہن کا فیانسی زیاده نھیں ھیرو بنتا___ سمجھتی تو تمھاری بہن بھی خود کو ھیروئن ھی ھے کل میرےساتھ مارکیٹ گئی تھی کہتی تھی۔۔ اکیلی نھیں جا سکتی "انھوں" نے منع کیا ھے....کہتی۔۔ گانا واٹس ایپ کیا انھوں نے مجھے
اکیلی نا بازار جایا میری جاں زمانہ ٹھیک نہیں.
دل تے میرا کیتا کھواں تے جان کیڑا پیدل عمره کر کے آئی اے او وی نھیں ٹھیک کر درست لے گی....پر عادت نھیں ھے مجھے منہ پر بات مارنے کی.....
ورنہ تمھاری بھن جیسی فسادی طبیعت ھے میری...انے تے ھن تو ای اپنے فیانسی نو مٹھی. اچ کر لیا اے...ریسپیشن ڈریس وی اگلی اپنی پسند دا خریدن لگی اے....تے جیڑی میری بری بنائی سی تسی....کسے نه کم دی کوجی.....میری جگه تے کوئی ھور کڑی ھوندی تے اگ لا دیندی ایڈے نکمے سوٹاں نو.....مجھ معصوم پہ کیا کیا ستم ڈھائے ھوئے تم لوگوں نے معاف نہیں کرنا الله نے نہ توانوں نہ تواڈی فسادی پہن نو.....
تمھاری اماں کہتی ھیں میں تمھیں رپورٹیں پہنچاتی ھوں.....تو او جیڑی ٹواڈی پین دے رابطے نے اپنے فیانسی نال او تے پینٹا گان دی ھاٹ لائن اے نا۔ جیڑی نہ ھوئے تے دنیا تباه ھو جائے.....وڈی ھیلری کلنٹن تے ویکھو .....
میں آخری دفعہ بتا رھی ھوں اگر کرسمس کی چھٹیوں میں نھیں آئے تو پھر اپنےاور اپنی بہن کے مستقبل کو مخدوش ھی سمجھنا.....
مینوں اینا فسادیاں دے وس پا کے آپ تواڈا یورپ آڈٹ ای نہیں پیا مکدا.....
چلتی ھوں خط ملے تو جی میل پر میں نے افسانہ بھیجا تمھیں پڑھ لینا....
اور میرے لیے ھاؤس آف کارڈز کا نیا سیزن ڈائنلوڈ کر لینا...
تمھاری بہن کی شادی کی دعا گو
سحرش

To concerned Department !


ٹو کنسرنڈ ڈیپارٹمنٹ...
ندرت کو خط لکھنے بیٹھی تھی تو میری گولی (ٹیبلٹ) کے اوپر لال بتی جلنے لگی....بتی پر ھاتھ مارا تو معلوم پڑا ھاٹ میل پر تم مجھ نے سندیسہ بھیجا ھے مجھے....
تمھاری طرف سے آئے خطوط پر مجھے بے ساختہ دل دھڑکنے کا سبب یاد آجاتا ھے....
کبھی کوئی خیر کی خبر جو نہ آئی تمھاری طرف سے....جب بھی آیا اینٹرنس سرٹیفکیٹ آیا...ڈیٹ شیٹ آئی شیڈول آیا....پر آج تو تم نے حد کر دی....ریزلٹ ھی بھیج ڈالا....سنو تمھیں اپنی منحوس طبیعت پر کوئی شرمندگی نہیں ھے....اگر تم نائی ھوتے ناتو دس گاؤں کی فوتیدگیوں کی خبریں تم نے بریک کیا کرنی تھیں...
مشوره دوں تو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی طلاق کے وکیل سے ڈیل کر کے میرج بیورو کھول لینا....اس کا روز گار لگ جائےگا اور تمھاری نحوست....
اوپر سے جو تم کل عالم کی نحوست پھیلا کے نیچے لکھتے ھو نا۔۔ یورز سینسیرلی کنسرنڈ ڈیپارٹمنٹ....یقین مانو کنسرنڈ بارے کنسرنز ھونے لگتے ھیں...
ویسے ایسے خلوص سے ھم باز آئے....
جس میں تم ڈائیرکٹ ابا جی
کو مخاطب کر کے ھماری طبیعت کی جولانی بارے سیر حاصل تبصره کرنے کے بعد مفید مشورے بھی دیتے ھو....میں پوچھتی ھوں میں نے آج تک لکھا ھے تمھارے ابا جی کو خط؟؟؟ تم بھی میرے تک محدود رھا کرو نا۔۔ ابا کو انوالو کرنا ضروری ھوتا ھے؟....فائن(جرمانہ) میرا تمھارا مسئلہ ھے نا مل کے حل نکال لیتے.....وه تو مین ھی عقلمند تھی جو گارڈئین والے خانے میں بھی اپنا نمبر اور ای میل آئیڈی دیا تھا....وگرنہ تم نے تو کوئی کسر نہ چھوڑی تھی مجھ معصوم کے ھاتھ پیلے اور منہ لال کرانے میں....غضب خدا کا....خط کے شروع میں لکھتے ھو ڈئیر مسٹر .......مجھے لگا تم سدھر گئے ھو.....پر ھائے۔۔ ری میری خام خیالی.....تم کہتے ھو آپ کی بیٹی یونیورسٹی میں دنگا فساد کرتی ھے....اے لو اب ایک سر پھاڑنے اور دو چار چپئیڑیں لگانے کو دنگا فساد کھا جانے لگا....
جی لگتی کہوں تو صاحب برداشت ختم ھو گئی ھے تم لوگوں کی نسل میں....کیا ھوا جو سنئیر کے ماتھے پر میرے آزار چار ٹانکے لگ گئے....سنو یہ ڈیپارٹمنٹ کا ڈاکٹر مفت کی تنخواه بٹورنے آتا ھے....ایک تو تم لوگوں کا بھلا سوچو اوپر سے ابا جی تک بات پہنچائو....سچ ھے بھئ بھلائی کا دور نہیں رھا.....
اور ھاں یہ جو تم مجھے خط میں ڈئیر سحرش لکھتے ھو نا۔۔ تو اس سے باز آجاؤ...کچھ اپنی عمر کا لحاظ کرو.....کسی نے دیکھ سن لیا تو کیا کہے گا....
تمھاری مخلص
ایک طالب علم....
سحرش

ندرت کے نام دوسرا خلط


ری ندرت....
حالانکہ تمھاری ڈی پی دیکھنے کے بعد تمھیں پیارا کھنے کو دل تو نھیں چاه رھا...لیکن چلو پھر بھی شکسپئر کے مقولے...
Appearances are always deceptive...
کو سچ مانتے ھوئے....دل پر پورا ماؤنٹ ایورسٹ رکھ کے تمھیں پیاری کہنے کا جرم اور اعتراف جرم ایک ساتھ کرتی ھوں....
خط لکھنے کی وجہ یہ ھے کہ....بنو اب جب کہ تم آ ھی گئی ھو واپس تو سنو.....یہاں منطقیوں فلسفیوں کی بہتات  ھے.....ایسا نہ ھو دو دن گزریں اور پتا چلے کہ بنو پھر سے دکھی اور دل گرفتہ ھے....
سنو! یہ دنیا ھے....یہاں ہرمسکرا کے ملنے والا دوست نھیں ھوتا اور نہ ھر کسی کے پاس یہھنر ھی ھوتا ھے کہ دوستی نبھائے....وه کیا کہتا ھے ابن انشاء....
یہاں اصلی کم بھروپ بہت....تو بس تمھیں بھی بہروپیوں سے بچ کر رھنا ھے اور اصلی سچے کھرے ٢٤ کیرٹ سونے کے جیسے دوستوں کی پرکھ کرنی ھے.....اب پوچھو گی وه بھلا کیسے ھو.....تو اس کا سیدھا سا کلیہ ھے....جو تمھاری عزت کرے....اور کروائے....ھاں بھئ کروائے...جس کی محفل میں ایسے لوگ ھوں جن کے لیے تمھاری ذات کا پندار اھم نہ ھو....تو لڑکی وه تمھارا دوست تو کم از کم نہیں ھو سکتا ایسے لوگ سے میل جول تو رکھو بات چیت بھی کرو پر ان سے درد دل مت کھو.....انھیں دوست مت بناؤ....اکیا ٹرم ھے بھلی سی.....ھاں سوشلائز کرو...کرٹسیز دکھاؤ....پر دوست....نا نا....
یہ زندگی ھے بنو....تو اگر زندگی تمھیں لیموں دیتی ھے نا تو تم لیموں پانی بنا کر پیا کرو....
If life gives u lemons,make lemonad....
اور چینی کم رکھا کرو....اب زندگی میں ترشی بھی نہ ھو تو کیا مزه بچے گا....
اور آخری بات سن لو....یہ جن کے لفظوں میں خالی برتن سی چھنک ھوتی ھے نا.....
وه اگر تمھیں کھیں نا کہ تم دنیا کی آخری حسین لڑکی ھو....یا پھر یہ کہیں کہ تمھارے بعد حسن کی تعریف وجود میں آئی تھی...تو یقین کیا کرو ان کی باتوں پر... ضرور یقین کیا کرو ان پر..لیکن وه بھی اپنے جملوں پر یقین رکھتے ھوں....یہ گمان مت پالنا....وگرنہ پھر اداسی ہی ہے...اور! اگر کبھی اداسی میں مسکرانا پڑ جائے نا....تو اتنے دل سے مسکراؤ...کہ ایک لحظے کو دل بھی پریشاں ھو جائے کہ.....یا وحشت...یہاں تو ابھی اداسی دھری تھی کہاں گئی....
اب چلتی ھوں....
خوش رھو...منطقیوں فلسفیوں کے سینوں پر مونگ دلتی رھو....
دوستوں کی پہچان  کے مراحل طے کرتی ھوئی....
سحرش

ندرت کے نام


پیاری ندرت....
ویسے آپس کی بات ھے کتنی کو پیاری....چلو جتنی بھی ھو مجھ سے کم ھی ھوگی....
یہ بتاؤ ذرا...یہ کس قیامت کے نامے تمھارے نام آرھے ھیں آج کل...دیکھو اچھی بچیاں ایسے نہیں کرتیں...
اور یہ جو تم تمام خطوط کے بعد بھی خاموشی کی ردا اوڑھے دور جنگلوں میں ناراض بچے کی طرح کسی ٹیلے پر بیٹھی کن اکھیوں سے دیکھتی ھو نا.. .تو اس سے صرف دو ھی مطلب نکلتے ھیں...
یا تو یہ کہ تم داعش جوائن کرنے کے متعلق سوچ رھی ھو. یا پھر یہ کہ تم اداس ھو....
دیکھو اگر تو داعش واعش جوائن کرنے لگی ھو تو یہ تمھارا ذاتی معاملہ ھے اور میں کسی کے ذاتی معاملے میں نھیں بولتی.....
لیکن اگر اداس ھو تو سنو....یوں چپ چپ رھنے سے اداسی کم نھیں ھونے والی....اور اگر ناراض ھو تو یوں خاموش ره کے دل توڑنے کی بجائے کہیں بہتر ھوتا اگر تم ھاتھ پیروں کا استعمال کر کے دل دکھانے والوں کی ایک ادھ ھڈی توڑ دیتی. تین چار مہینے پلستر لگوا کے پھرتے....تو اگلی دفعہ جرأت نہ ھوتی ان منطقیوں فلسفیوں کی کہ کسی ندرت بارے بات کرتے. دیکھو جو کھتا ھو نا...اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوھنیے....ھو سکے تو اسے گملے سمیت پھول دے مارو....تاکہ ساتھ ھی ساتھ خواب غفلت سے بھی جاگ جائے...اور تمھیں بھی اپنے برابر اپنے جتنے انسان کا درجہ دے سکے... لیکن یہ ھی تو مسئلہ ھے....
خیر تم کھو تو میں مدد کروں....؟؟؟
تم کہو تو سلیس پنجابی میں بلیغ گفتگو کروں....اب تم کہو گی کہ یہ کیا بدلہ ھوا....پگلی دنیا کی ساری زبانیں زبانیں ھوتی ھیں تھذیب ادب ثقافت کا امتزاج....لیکن پنجابی زبان اپنی ذات میں ایک ہتھیار ھے ھے... سیلف ڈیفنس ھے یہ زبان....خیر چھوڑو یہ زبان بیان کے قصے....یہ بتاؤ تمھاری طرف موسم کیسا ھے....مڈ سیزن کے کپڑے نکال لیے...یہ جو ناراضگی کے بعد والا پیریڈ ھوتا ھے نا۔۔ یہ بھی مڈ سیزن جیسا ھوتا ھے...نہ غصے کی گرمی لگتی ھے نہ رویوں کا سرد پن سلگاتا ھے....
کوئی فرق نھیں پڑتا لفظوں کے پنکھے چلاؤ یا نھیں....اچھا یہ کہو...یہ جرأت کیسے ھو گئی لوگوں کی کہ تم سےتمھاری ھنسی چھینیں....سنو لڑکی بلاوجہ کی امیدیں باندھو گی تو ایسے ھی ھوگا....
پرامید رھنے میں اور توقعات رکھنے کے درمیان جو فرق ھے اسے سمجھو....خوش رھو خوش فھیمیاں مت پالو.....خواب دیکھو....لیکن ان خوابوں کو سب معتبر سمجھیں...نہ۔ نہ یہ غلطی مت کرنا....
اور کسی کو یہ حق مت دو کہ تمھاری آنکھ میں موجود مسکراھٹ کے تاثر تک آ پہنچیں....یہ جو لوگ باتیں کرتے ھیں نا رنگوں کی....خوشبو کی....تتلی کی جگنو کی...
ان میں سے اکثر کے لفظوں میں خوشبو نھیں ھوتی....رنگ نھیں چھلکتے ان کے لہجوں میں....اور نہ ھی جگنو جیسے حرف ھوتے ھیں ان کے پاس....
بس خالی برتن سے کھنکھتے لہجے ھی ھوتے ھین ان کے پاس لبھانے کے لیے....سو.....ان کے لہجووں پر مت جایا کرو....بس سنا کرو اور ھنسا کرو....جہاں برداشت سے باھر دوراھے پر آ کھڑی ھو نا....وھاں وه راستہ اختیار کر لیا کرو جس پر یہ نہ چلتے ھوں...
چلتی ھوں....میں پر امید ھوں تم یہ خط پڑھو گی....لیکن جواب ملنے کی توقع وابستہ نہیں کی میں نے...
خوش رھو اور خط پڑھتی رھو....
آپ اپنی پیاری

مزاح پارے


ھیں تم میرے پچھلے خط کو سنجیده تو نھیں لے گئے
وه تو بس یونہی....تمھاری بہن نہیں تھی گھر...اماں بھی سر درد کے آزار منہ سر لپیٹ کر پڑی تھیں....میں بھی لگی شکوے کرنے...جانے دو...بتاؤ کیسے ھو؟
کہتے ھو اداس کر دیا میں نے.....تو چلو میں واپس لیتی ھوں اپنے الفاظ...
تم پھول بس چھوا کرو...
اداس مت ھوا کرو...
میں نھیں کہتی تمھیں آنے کے لیے...رھو وھاں...بندوبست کرلیا ھے میں نے تمھارا...
کل جیری کے ویزا سینٹر فون کیا تھا میں نے....وه آنٹی پوچھتی ھے کیوں چاھیے ویزا.....
میں نے بھی کہہ دیا ایک آدمی میرے ساتھ دھوکہ کر کے سٹک لیا ھے....اسے پکڑنے واسطے جانا میں....پوچھنے لگی فنانشل میٹرز تھے....میں نے کہا۔۔ ہاں....دیکھو فنانس تو بھرحال انوالو ہے نا۔۔ میرے تمھارے درمیان....تمھارا اور میرا میوچل اکاؤنٹ....جس میں تم پیسے ڈالتے ھو اور میں نکالتی ھوں....ھن بندا مل جل کے ای گزارا کردا اے نا....
خیر یہ تو تھی ضمنی بات....
اصل بات تو یہ ھے میاں!
تمھاری فسادی بہن میری پارٹنر ان کرائم ھے اس بار....
اب پوچھو کیسے تو وه ایسے میاں...کہ اچھے وقتوں میں پڑھ لی تھی ارتھ شاستر....
حکومت کرنے کے سارے گر آتے ھیں ھمیں...
وه الگ بات ھے کہ....
کی محبت تو سیاست کے چلن چھوڑ دیے ..
ھم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت کرتے....
آلینے دو مجھے....کر درست لوں گی تمھاری "خوش اخلاق" کولیگز کو.....جڑ کے تے انج تصویراں بنادیاں نے جیویں کم دے میلے اچ وچھڑا پرا مل گیا اناں نو....
آج تمھاری بہن ایسکیپ پلین دیکھ رئی تھی....اے ٹائم وی آنا سی سلویسٹر تے....
یہ فلو کیوں نھیں ٹھیک ھو را تمھارا....فروزن یوگرٹ کھانا چھڈو گے تے فلو ٹھیک ھوئے گا.....ڈگریاں کر لیں میماں نال نوکری کر لئی...پر دھی کھان دا چاه نھیں لتھا....پینڈو...
سنو یہ مجھے ماسک چڑھا کر خط کا جواب دینا....کھیں فلو کے جرمز ھی نا پارسل کر دینا
جراثیم سے یاد آیا...وه تمھارا کزن نہیں تمھارے ماموں کا بیٹا....وئی جو کولھو میں سر دے کر تیل لگاتا ھے...کل آیا تھا....
انارکلی کے چست پاجامے سے زیاده ٹائٹ جینز تے اوتے پیلی شرٹ....بڑا ای زھر پیا لگدا سی....کیندا پابی جی پائین دا کی حال اے......میں کیا اودرے نے تیرے کو....جا اوتھے ٹر جا....کوئی دنیا ویکھ تینوں ھوش پھرے...منوسا...
ویسے مننا پے گا اونوں ویکھ کے مینوں ڈارون سچا لگدا اے....
چلو چلتی ھوں پھلے ھی دماغ کی لسی بنی ھوئی....تمھاری اماں سے ماڑی تماڑی کرتے....اوتوں تواڈی فسادی پین....
کاخان والی تصویریں لگاؤں گی....تے جے اودے تےتعریفی کامنٹس نہ آئے تے میں انسٹا گرام دے ویچوں نکل کر تواڈے پورے خاندان دے دند پن دینے نے....جیلس پپل
تمھیں شرٹس پارسل کی ھیں...کیمبرج کی...وینٹ ورتھ ملر جیسی ایک شرٹ....تے پا کے کسی فراڈن نال کافی پین نہ ٹر جانا....یاد رکھنا مینوں کوئی ثبوت مل گیا تے میں نائن ایم ایم نه "پوک" کراں گی دوواں نو.....
چلتی ھوں....قہوے کی ریسپی میسج کی ھے وه بنا کر پیو فلو کے لیے....
نھیں فلحال کچھ نھیں منگوانا....
تمھاری
منتقم مزاج
سحرش

مزاح پارے

تو پھر طے ھوا نھیں آؤ گے تم....
تم نے لکھا ھے کہ اب بدل گئی ھوں میں....پہلے جیسی نھیں رھی....ھاں بدل تو واقعی گئی ھوں....یاد ھے تمھیں یونیورسٹی کے دنوں میں....میرا کوئی رنگ ریپیٹ نھیں ھوتا تھا....رنگوں سے عشق تھا مجھے....اور تم بھی تو کہتے تھے رنگ الہام کی طرح اترتے ھیں تم پر...گویا تم پر ھی اترنا تھے....اب تم بھی تو کہتے ھو۔۔ پیچ کلر میں موٹی لگتی ھوں....اور یہ سچ ھے....اب رنگ نھیں سجتے مجھ پر....تمھاری اماں صحیح کہتی ھیں میں سفیانے رنگ پھنتی ھوں....کیونکہ میرے رنگوں میں شوخی تم سے تھی....تم نھیں تو کیا کالا کیا سفید...سب ایک سے دکھتے ھیں...
تم پوچھ رھے تھے نا....کہ اپنی امی کی طرف کیوں نھیں جاتی....
میں اس لیے نھیں جاتی وھاں کیونکہ میری ماں کرید کرید کر پوچھتی ھے کہ میں تمھارے ساتھ خوش تو ھوں نا....مجھ سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جھوٹ نھیں بولا جاتا...کیا بتاؤں میں انھیں کہ میں خوش تو درکنار....سرے سے تمھارے ساتھ ہی نھیں ھو....میں وھاں جاتی ھوں تو ابا کے کندھے جھکنے لگتے ھیں...بتاؤ ایسی صورت میں کیا کروں....بیٹی کے باپ نھیں ھو نا....اس لیے تم نھیں سمجھو گے....باپ کی آنکھوں کے تاثرات اور بیٹی کی مسکراھٹ کے درمیان تعلق کیا ھے....میں وھاں جاتی ھوں تو بھائی بار بار پوچھتے ھیں کیا کھاؤ گی ۔۔کیا لا دوں۔۔۔ چلو کہیں باھر چلتے ھیں....بہن بیاہو گے تو ان جملوں کے مفھوم سمجھو گے....
تم نے اپنی مجبوریاں بھی لکھی ھیں....نھیں آسکتے....چھٹیاں نھیں ھیں آڈٹ چل رھے ھیں....سالانہ رپورٹ دینی ھے....اور پھر پاکستان میں گرمی بھی تو بہت ھے....
سنو! آج میری بھی مجبوریاں سنو.....
میں سارا دن تمھاری بہن سے الجھتی...نقص نکالتی..."پیاز" کاٹتے گزار دیتی ھوں....
پر.....
سہ پہر ہوتے ہی....سالٹ رینج کی ساری نمکینی میرے اندر اتر آتی ھے....دینہ سے پنڈی تک کی خشک پہاڑیاں میری آنکھوں میں اگ آتی ھیں....تمھیں پتا ھے....پلکوں کا درمیانی فاصلہ بحر مردار جتنا طویل اور تھر جتنا مشکل ھو جاتا ھے.....میرےسے پاٹا نھیں جاتا....میں گھڑی گھڑی فون کا پروفائل چیک کرتی ھوں کہ کہیں سائیلنٹ نہ ھو اور تم....تم فون کرتے رہ جاؤ....
لیکن تم......تم...تم نہیں سمجھو گے.....
تم اوروں کے ھاتھ تھامو۔۔۔ انھیں نئیں منزلیں دکھاؤ....
میں بھول جاؤں اپنے ھی گھر کا رستہ....تم کو اس سے کیا...
تم کہتے ھو دو آپشنز تھے...یا تو آڈٹ کرنے یورپ چلا جاتا یا گھر آجاتا...میں یورپ چلا آیا ایسی آفرز بار بار نھیں ملتیں....
سنو.....
تم موج مثل صبا گھومتے رھو...
کٹ جائیں میری سوچ کے پر..
تم کو اس کیا....
کل نالا کاخاں گئی تھی...اس کے ساتھ ساتھ چلنے کی خواھش تھی مجھے بہت دیر سے .....مجھے لگتا تھا نالا کو پاس سے دیکھا تو شائد....ھیر سے زیاده خوش قسمت ھوں

مزاح پارے


لو سنو! تمھاری اماں نے آج تڑکے ماری تماڑی کرتے ھوئے مجھ معصوم پر تمھیں پٹیاں پڑھانے کا الزام لگایا ھے...اور یہ پٹی بھی تمھاری بہن نے پڑھائی ھے انہیں....ویسے تمھاری اماں بھی بڑی باکمال خاتون ھیں..میں تم سے بات کروں تو وه پٹیاں پڑھانا ھے ..
تو جو تمھاری بہن جو ساراسارا دن اپنے فیانسی سے کرتی رھتی باتیں ...او اونوں ایمان مجمل تے ایمان مفصل پئی یاد کراندی اے....وڈی سیپارے آلی باجی تے ویکھو...
جو پچھلی دفعہ میں نے واٹس ایپ کی تھیں تمھیں تصویریں ویسا سیٹ بنوانے لگی تھی...پر مجال ھے جو تمھاری بہن کا آتنک مجھے کہیں چین لینے دیتا ھو... وھاں بھی گھس آئی کہنے لگیں بہت ھلکا ھے۔۔ نو لکھا سیٹ بنوا لیں....میں بتا رئی ھوں تمھیں یہ تمھاری بہن کی ویڑیوں والی پسند ناقابل برداشت ھوتی جا رئی ھے مجھ سے...
کہاں مین این سی اے کی گریجوائٹ اورکہاں
گوجر خان کی تمھاری حویلی.... میں تو اس دن کو کوستی ھوں جس دن بک فئیر پر تم سے تکرار ھوئی تھی....سچ بتانا یہ تمھاری بہن پچھلے جنم میں ویڑی تو نھیں تھی؟؟؟
اچھا سنو! لچھو باندری آئی تھی کل رضایئوں والا پرنٹ پہن کے...تے گلاں انج پئی کردی سی جیوئں آپ ماریہ بی, اے....قسمے اک تو اک نمونہ تواڈے خاندان اچ...
پچھلے خط کا جواب تین دن دیر سے ملا تھا...میں بینفٹ آف ڈاؤٹ دیتے ھوئے چھوڑتی ھوں...اب چلتی ھوں تمھاری فسادی بہن لاونج میں بیٹھی انڈین آئڈل دیکھ رھی ھے...ویسے او اپنے آپ نو وی لتا منگیشکر ای سمجھدی اے.....تے گلے اچ نانا پاٹیکر فٹ سو...
خیر...میں نے قلعه رھتاس  کا اسکیچ بنایا ھے ھیڈر لگاؤں گی ٹیوٹر پر فیورٹ کرنا...
ھاں یاد آیا وه لڑکی کون ھے پنک ٹی شرٹ آلی....بڑا دوڑ دوڑ کی تصویراں لائک کردی اے تواڈی...یاد رکھنا میں بلیک بیلٹ ھوں..اور سیلف ڈیفنس پر سزا بھی کوئی نئیں....میں برگر ٹائپ کڑی نھیں جیڑی رو دھو فیلنگ بروکن لا کے، تے چپ کر جائے گی....میں لتاں پن دینیاں نے اودیاں وی تے اونوں ویکھن آلیاں دییاں وی...
اپنی بہن کی شادی کی تاریخ سوچ کر آنا وھاں سے.....اے کڑی نال مزید گزارا نھیں میرا....
وائبر ان انسٹال کر دیا ھے میں نے....میسنجر پر کر لینا کال....
تمھاری بلیک بیلٹ....شاعرانہ طبیعت کی مالک.....آپ کی بہن کے آزار۔۔ ڈپریس....
سحرش

مزاح پارے

سنو میرا خط ملتے ھی اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار سپر مین کے سہارے کا انتظار چھوڑ کر ائیر بلیو کی فرسٹ ایولیبل فلائٹ پکڑ کے گوجر خان پہنچو....میں نے سنا ھے ہڑتالوں کی بدولت ایئر بلیو کی ٹکٹس ممہنگی بک رہی ہیں بھئ خاقان عباسی ہے کچھ بھی کرے۔....
ھاں تو میں کہہ رھی تھی فورا پہنچو....وجوھات کے ضمن میں یہ بتانا پسند کروں گی کہ پیچھے تواڈی نکی پین نے آخر چکی اے....سارا دن ترکی ڈرامے دیکھتی اور اماں کو میرے خلاف پٹیاں پڑھاتی رھتی ھے....تمھاری اماں بھی تارتاریوں کی نسل سے لگتی ھیں مجھ معصوم پر ھمہ وقت گھیرا تنگ کیے رکھتی....
تم نے کتنے سھانے خواب دکھائے تھے مجھے راج کرانے کے....راج میں کٹہ تے سوا کرنا سی۔۔ الٹا کام کر کر کے میرے ھاتھوں پیروں کا بیڑا غرق ھو گیا ھے....سارے میرے نیل کلرز پڑے پڑے خراب ھو رھے مجھے لگانے کی فرصت نہیں ہے
مسکارا تک واٹر پروف نہیں ھے میرے پاس ۔۔جب بھی لگاؤں پیاز کٹوا کے دل کے ارمانوں کے ساتھ آنسوؤں میں  ڈلواتی ھیں تمھاری اماں....اوپر سے تمھاری فسادی بہن ۔۔میں کہتی ھوں فورا پہنچو اور شادی کرو، اسکی.....اور ھاں جس طرح کے کنگن أس کیلئے لاؤ....
میرے ویسے مت لانا....مجھے ویسے بھی نازک زیورات پسند ھیں ان کی طرح کی ویڑیوں والی جیولری نھیں پہنتی میں
بحرحال میں تمھیں آخری دفعہ بتا رھی ھوں اس مہینے کے اندر اندر تم بہیں پہنچے تو میں چلی جاؤں گی امی کی طرف....
اور یہ تو بتاؤ ذرا....میرے کہنے کے باوجود تم نے ابھی تک اپنی پھوپھی کی بیٹی کو بلاک کیوں نھیں کیا فیس بک سے ....اور کل کس خوشی میں تم انسٹا گرام پہ اس کی فوٹو پی لوکنگ فیب  کا کامنٹ کر رھے تھے....لچھو باندری جیئ ھے وے اوتوں جیڑا ھئیر ڈائی لایا سو۔۔ نکما.....
پوز اینج کردی اے جیویں سلمی ھایئک اے....سٹیٹس ویکھا سی اودا....مسنگ سم ون.....یاد رکھنا اے سم ون..سم ون ای رھنا چاھیے دا اے.....
آتے ھوئے میرے لیے آئی فون سیکس پلس لے آنا....اس فون سے دل چڑھ گیا میرا....
ویسے ٹیوئٹر پر فوٹو میں تو ٹھیک ھی لگ رہےتھے تم....پھر بھی اپنا حال واٹس ایپ پر بتا دینا....
تمھاری بہت سی، نہ ھو سکنے والی، کچھ لگتیوں کے سینوں پر مونگ دلنے والی ....تمھاری بہن کے ھاتھوں تنگ
سحرش

دوسرے خط کے جواب مین


تمھارا خط ملا...خوشگوار حیرت میں ھوں میں تم زیاده بولنے لگے ھو..لفظوں پر عبور تو خیر تمھیں پہلے بھی بہت تھا اب تو اور بھی ماہر ھو گئے ھو....
ھاں مانتی ھوں تمھارے لفظ جام ھوتے ھیں میرے لیے....
تاریخ ھی کی مثال ذھن میں آرھی ھے...وه کسی فرعون کی کنیز جس نے انگور گھڑے میں دبا کر رکھے تھے....تو جب وه درد شقیقہ سے مرنے لگی تو ان "خراب" انگوروں کا پانی زھر سمجھ کر پی گئی....اور دنیا کو ایک خماری سے آشناکردیاا س نے نادانستگی میں....مجھے بھی لگتا ھے میرے خطوط نے دنیا کو تمھارے لفظوں سے آشنائی دی ھے جن کو تم تاریخ کی بوسیده کتابوں میں کسی گمشده بستی کی مانند چھپائےبیٹھے تھے.
میری تاریخ سے دلچسبی غیر معمولی تو نہیں لیکن جب اپنے وجود میں کسی نامکمل تہذیب کو ساتھ لے کر چلنا پڑے تو تاریخ اپنے آپ دلچسپ لگنے لگتی ھے۔۔۔چلنا بھی کہاں بس گزاره ھے.
خود ترسی کی بھی خوب کھی....خود ساختہ خول کہاں...
بھئی
دل ھی تو ھے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آۓ کیوں
ھم روئیں گے ہزار بار کوئی ہمیں ستائے ھی کیوں.
کہو کولیسٹرول کی گولی کیوں کھانے لگے....اب کیا پودے نھیں اگاتے ھو...وه تمھارا پھولوں سے عشق کیا ھوا؟؟
تم تاریخ کے ھولناک "سنہرے" ابواب کی بات کرتے ھو سنو! حال بھی کچھ کم سنہرا نھیں ہے...پتھر دلوں کا دیس دیکھا ھے تم نے؟؟ کوئی ایسا شخص دیکھا ھے جس کو اس کی نزاکت رعنائی مار دے؟؟؟؟میں نے دیکھا ھے...محبت جرم بنتے ھوئے جرم انجام تک پہنچتے ھوئے اور کیا خوب انجام "پتھر"۔۔۔۔
 میرے استعارے تشبہات سب چھو اورٹے کھوٹے ھوگئے ھیں اس ایک لفظ کے سنے....میرے احساس کی رعنائی ہار گئی ھے اس کو لکھتے ھو.ئے.تم نے تو لکھا تھا قتل و غارت گری کے انداز بدل گئے ھیں.....تو سنو پھر یہ ھمارے پہلو میں پرانے ڈارک ایجز کا روم کس نے برپا کر دیا تھا؟؟؟پڑھی ھے رومن کی تاریخ تم نے.....میں نے تو دیکھ بھی لی....میرا تخیل اکثر سیزرز کے محل میں بپا اس "میلے"میں جہاں انسانیت کی تذلیل پر آرذده ھو جایاکرتا تھا....بھلا ھو میرے عہد کا مجھے اس کرب سےبھی رھائی دی اس نے.....مجھے بڑی شدت سے احساس ھونے لگا ھے میں غلط دور میں پیدا ھوگئی ھوں...کبھی کبھی دل کرتا ھے زندگی سے کھوں...


اے زندگی ٹہر ادھر
میں زمانہ بدل کے آتی ھوں....
خیر.....پیلا رنگ نھیں پہنتی ھوں اب ۔۔چہرے کی گویائی پیلے رنگ کے ساتھ بڑھ جاتی ھے....اسی لیے شائد انگریزی ادب میں پیلے رنگ کو موت کی اداسی کی علامت سمجھا جاتا ھے...موت بھی تو بہت پر شور ھوتی ھے نا۔۔بے پناه بولتی ھوئی...شدید خاموش.
سنو تم جتنا بھی دائیں بازو پر جھکو تم اشتراکیت کے قائل نھیں ھو سکتے.....کیوں کہ تم کھونے سے ڈرتے ھو اور اشتراک میں کھونا ھی کھونا ھے___اور یوں بھی مارکس کو لینن کو "مان" لینے کے لیے حوصلہ چاھیے اور شیطان جیسی مستقل مزاجی...اورتمھارا خط چیخ چیخ کر تمھاری متلون مزاجی بتا رھا ھے...
تم کہتے ھو اس شعلےکو جانتے ھو جس کی حدت میں میں جل گئی ھوں....
سنو! لفظوں کے جادوگر۔۔۔برف پوش وادیوں کی سحر انگیزی بھی چنارہی مکمل کرتے ھیں...زندگی کا حسن بھی بیرونی محرکات کا محتاج ھوتا ھے..زبان کے میٹھے چشمے بھی ایک مدت کے بعد کھارے پانی میں نے تبدیل ھو جاتے ھیں..جب خیالات کے دریا اپنا رخ بدلتے ھیں تو زبان بھی سالٹ رینج کی طرح حشک نمکین اور کسیلی ھو جاتی ھے...
اور آخری بات سنو....متانت اور پر فریب شائستگی نھیں اظہار کے بعد کی بے توقیری کا خوف گلا گھونٹتا ھے ....میں لہجوں میں در آنے والی تھکن سےڈرتی ھوں
 خوش ھی رھتی ھوں اور کوئی چاره جو نھیں ھے،،لیکن خیال نھیں رکھا جاتا خود کا
کولیسٹرول کنٹرول کرتے رھو پھول اگایا کرو
سحرش

خود اذیتی کے چند لفظ


ایک سڑک کے دونوں اطراف دو متضاد دنیائیں بسا رکھی ھیں لوگوں نے....دونوں دنیائیوں کے تضادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ھیں....جس رفتار سے ایک طرف سکولز بڑھتے جاتے ھیں اسی رفتار سے دوسری طرف جہالت بڑھتی جاتی ھے....ایک طرف ھوٹل کھلتے ھیں تو دوسری طرف بھوک برھنہ ناچتی ھے....ایک طرف مسجد کے مینار بلند ھوتے جاتے ھیں اور دوسری طرف مذہب مرتا جاتا ھے....ایک طرف بینک کھلتے جاتے ھیں دوسری طرف بھکاری پیدا ھوتے رھتے ھیں....سڑک کے اس طرف ہسپتال کھلتے ھیں...تو دوسری جانب بیماریاں جان لیوا ھوتی جاتی ھیں...
درمیان میں تارکول کی سیاه سڑک جو دونو ںطراف کی مشترکہ ملکیت ھے...وه خاموش چپ چاپ محو تماشا ھے کہ یہ اس کے دونوں اطراف میں شب وروز کیا تماشا برپا ھے....ایک ھسپتال میں کوئی زیاده کھا لینے سے جان بلب ھے تو دوسری طرف بچہ کوئی بھوک سے مر گیا.....


سڑک برسوں سے دونوں اطراف کی بستیوں میں کم اور مکینوں میں بڑھتے ھوئے فاصلے چپ چاپ دیکھ رھی تھی
پر آج سہ پہر مجھے لگا سڑک چلا اٹھی جب ایک بچہ اور ایک کتا نھیں کتے کا بچہ شائد ایک ھی کوڑے دان سے رزق تلاش کر رھے تھے....یا پھر کھلونا کوئی ٹوٹا ھوا......
آج سڑک نے بے ساختہ کہہ اٹھی........میری دونوں طرف قائم بستیوں کے مالک یہ کیسی دنیا بسا دی جہاں کھیں انسان نھیں بستے....جہاں لوگ انسانی تو کیا حیوانی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رھے ھیں جہان دونوں طرف ھی آگ ھے کہیں بھوک کی تو کہیں نہ ختم ھونے والی اشتہاء کی....کہیں جھالت کا ننگا ناچ ھے تو کھیں علم کی بے فائده بہتات.....سڑک کی خاموش گفتگو جاری تھی....مجھے حق نہ تھا پر ایک شکوہ میرا بھی.......
سڑک کے شکوؤں میں ایک سرگوشی میری بھی تھی......
میں تیری دنیا کے معیارات سے مطمئن نھیں ھوں
سحرش

مزاح پارے


یہ ان دنوں کا قصہ ھے جب ہم شدت سے یونی پولر سسٹم کے حق میں تھے
اور چونکہ ھماری یونی پولیرٹی جو چیلنج کرنے واسطے ھمارے اردگرد ھر رنگ نسل سائز اور ٹائپ کا کزن موجود تھا جس سے کسی بھی وقت ھمارے اقتدار کو خطره لاحق ھو سکتا تھا...ان خطرات کے تدارک واسطے ھم نے نہایت عمده سٹیرٹیجی ترتیب دے رکھی تھی...ھم نےتمام ویٹو پاورز یعنی دادا دادی تایا اور ابا سے نہایت حوشگوار تعلقات استور کر رکھے تھے...
لہذا ہمیں ھمیشہ اسرائیل کی طرح ٹریٹ کیا جاتا....
ھم بھی اس سٹیٹس سے بھرپور فائده اٹھاتے اور ھر وقت کہیں نہ کہیں محاذ کھولے رکھتے...گرمیوں کی چھٹیاں ھماری فیورٹ ھوتیں کیونکہ اس میں ٹارگٹس کی تعداد میں اضافہ ھو جاتا تھا...ھم نہایت انصاف سے اور برابری کی بنیاد پر صبح اور شام اپنے ایک کزنز کی کٹ لگاتے اور بھاگ کر دادا کے کمرے میں پناه گزیں ھو جاتے...دادا کی کمرے کی دھلیز پر کبھی ھماری کوئی پھپھو کبھی تائی یا کوئی دوسری خاتون کھڑی ھمیں کینہ توز نظروں سے گھور رھی ھوتی اور یہ خاتون وھی ھوتیں جن کے لعل کو ھم تازه بہ تازه لال کر کے آئے ھوتے...ھماری اماں کے سوا کسی خاتون کی جرات نہ تھی دادا کو جا کر ھمارے کارنامے گوش گزار کرتیں اماں جب سوشل پریشر سے گھبرا کر متاثره فریق سمیت کمرے میں قدم رنجہ فرماتی۔ ھم فورا لسانی کارڈ استمال کرتے....اردو سپیکنگ ھونے کی وجہ سے ھم ھمیشہ اپنی مظلومیت ثابت کر دیتے وفاق کے ظلم گنواتے اور متاثره فریق صرف پنجابی بولنے کی وجہ سے غاصب کہلایا جاتا....اور دادا شیر بن شیر کہتے ھوئے کیس ڈس مس کر دیتے...
یہ صورتحال ایسے ھی چلتی رھتی جو ایک دن ھم اپنے کلاس فیلو کو دیوار میں دے مار ڈاکٹر کواس کے سر میں ڈیزایننگ کرنے کا مواقع نہ فراھم کر دیتے...گو کہ باگ ذرا سی تھی صرف چار ٹانکے...
لیکن بات عمر بھر کی تھی...سو اماں نے ھمارا علاج ڈھونڈ لیا....اور یوں ھم نے عمرو عیار کے قصوں کی پہلی کتاب پڑھی..
سحرش

ایک خط کے جواب میں


تمھارا خط ملا شیلے کی نظم جیسا گھری اداسی کے تاثر میں لپٹا ھوا...شیلے بھی بڑا ظالم تھا تمھاری طرح لفظوں میں جان ڈالنے کا ھنر آتا تھا اسے.
جیسے تم لفظوں سے کھیلتے ھو نا--اور پھر زندگی کی بساط پر بکھرے پیادے اور سوار تمھارے سامنے اپنے اظہار کی خواہش لیے دست بستہ ھو جاتے ھیں.سو اس غم میں مبتلا مت ھوا کرو کہ نئے لفظ کہاں سے لاؤ گے تم قلم اٹھایا کرو لفظ تو خود اپنا آپ تم لکھوا لیتے ھیں
خیر!بھیره کے جس ڈھابے پر تمھاری بس رکی تھی میں وھاں کبھی نہیں گئی لیکن اس بینچ پر ضرور بیٹھی ہونگی جہاں دو خشک ویران داستاں سناتیں ھوئی ھیپناٹائز کر دینے والی آنکھوں کی حامل وه نا مکمل تہذیب بیٹھی تھی..جسے اس بات کا خوف روز مارتا ھوگا کہ،۔۔۔کل۔۔۔کل کیا ھوگا----کون کب کہاں سے کیسا سوال داغ دے....تم اگر اس داستاں میں مجھے صرچ خبر ھی سناتے نا کہ وه ٹوبہ ٹیک سنگھ والا گیس والا حادثہ
 یاد ھے تمھیں،،.........، تو بھی میں ان آنکھوں کے کرب کو سمجھ جاتی جو خود اس کرب سے گزر کر دل وحشی کو سمجھاتا ھو وه کہاں جانے گا؟؟
تم ھمیشہ سے خوش قسمت رھے ھو جو زندگی آواز دے کے اپنے پاس بلاتی ھے 
سنو! کچھ لوگوں کو زندگی آواز دے کر چھپ بھی جاتی ھے میں بھی شائد انھی میں سے ایک ھوں...اب تو یہ عالم ھے کہ کسی کی آنکھیں دل پر دستک دیتی ھوئی محسوس نھیں ھوتیں...
اور فرشتوں کی بھی خوب کہی........فرشتوں کا کام صرف بھیره سے شکار پور تک کا سفر تھا...کس سٹیشن پر کتنا رکنا ھے کہاں سے کیسے گزرنا ھے یہ انسان خود طے کرتا ھے...دیکھا نہیں فرشتون کی ڈیوٹی تھی مٹی اکھٹی کرنا سجده بجا لانا....عھد نبھانا ذمہ داری پوری کرنا۔۔۔ 
آدم کا کام تھا پر کیا ھوا؟؟؟؟ وھی اظہار کے بعد کی بے توقیری نا!
ھاں!!!! ذھن رساکی مالک ھوں خواب دیکھتی ھوں پر ان پر یقین نھیں رکھتی...
سنو....ایک شعر سنو گے؟؟؟
ھمارے کھلنے اور جھڑنے کے دن ایک ساتھ آئے ھیں.
ھمیں دیمک نے چاٹا ھے شجرکاری کے موسم میں.
تو لفظوں کے جادوگر یہ پری شجر کاری کے موسم میں دیمک زده ھو گئی ھے اب ایسے ھی برداشت کرو..لفظوں کے دیے جلایا کرو اندھیرا کم ھونے لگتا ھے.......
خط نا مکمل چھوڑ رھی ھوں---- مجھے مکمل باتوں اور پورے جملوں سے خوف آنے لگا ھے. مجھےایسے لگتا ھے کہانی تیزی سے منطقی ا نجام تک پہنچ رھی ھے...
آگہی کو خود پر حاوی مت ھونے دیں۔۔ بس پھول اگایاکریں تو خوشبو سے لفظوں میں ان کے رنگ بتانا نہ بھولنا۔۔۔
 خوش رھو
سحرش

love, Chemistry and Pain


اوائل دسمبر کی ایک زرد سہ پہر تھی....گدلا گدلا سورج اپنے ہونے کا ثبوت دیتے دیتے تھک ہار کر مغرب کی آغوش میں پناه لینے کو تھا....ڈوبتا ہوا سورج دیکھنا بھی کس قدر مشکل مرحلہ ھوتا ھے...ایسے لگتا ہے کوئی اپنی آخری سانسوں کو روک کے کھڑا ہے..جیسے اسے کوئی آخری منطر دیکھنے کی جلدی ہو....جیسے وه کسی چہرے پر اپنے لیے مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہو تاکہ پھر سکون سے ہستی سے گزر سکے...وه سامنے کھڑی قضا کو روکتے روکتے اس مقام پر پہنچ جاتا ھے جہاں پورے جسم کی طاقت آنکھ میں در آتی ھے....
جہاں اس کی بینائی صرف آنکھوں کی محتاج نھیں رہتی....وه سراپا آنکھ بنے توانائیاں خرچ کرتے سرخ ہوتے ہوتے بالآخر ڈوب جاتا ہے.اس زرد شام میں خزاں کی سنہری چادر اوڑھے پتوں پر قدم رکھتی اس لڑکی کی آنکھوں میں بھی ویسا ہی تاثر تھا ڈوبتے سورج جیسا....جیسے اسے اب صرف ایک آخری منظر دیکھنے کی تمنا ہو اور پھر اس کی بلا سے چاہے لاد چلے بنجارا..لڑکی کی عمر کا خاصا لاابالی پن کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا وه خشک پتوں پر قدم قدم چلتی ہوئی میرے بینچ کی طرف نہ چلی آ رہی ہوتی تو میں اسے وقت کی شاخ سے گرا کوئی پتا ہی سمجھتی جو اگنے کے چند دن بعد ہی خزان رسیده ہو گیا تھا....وه اس ادھورے منظر کا پورا حصہ...میرے ساتھ بنچ پر آ بیٹھی..وه جتنی اچانک بینچ پر بیٹھی تھی مجھے گمان گزرا کہ اگر یہ کچھ دیر اور چلتی تو شائد وحشت میں دیوانہ وار چلا اٹھتی....ضبط غم تھا یا رت جگا۔۔۔ اس کی انکھوں کی سرخی میں کوئی درد بہرحال چھپا ہوا تھا..
اب میرے اور اس کے درمیان ڈیڑھ فٹ کا فاصلہ میں دوموبائل اور ایک ناول حائل تھے جو تب سے میری گود میں دھرا تھا.مجھے یقین تھا اگر میں نے بات کرنے میں پہل کی تو وه کانچ کا منظر چھناکے سے ٹوٹ جائے گا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے میری آنکھوں کہ رستے اس کا اَن کہا درد جو میرے دل میں اترا ہے،وه واپس لے جائے گی...وه اپنی متاع اٹھا اجنبی بن چلتی بنے گی..میں خاموشی سے بے وجہ بے آواز صفحے الٹتے پلٹتے رہی...دفعتاً موبائل جیب میں ڈالتی وه میری طرف مڑی....کیا پڑھ رہی ہیں آپ؟
برائیڈا؟
میں نے کتاب کے شوخ رنگوں کے ٹائٹل کو اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔ ۔ ناول کا شوخ ٹائٹل بھی جب خزاں کی پژمردگی کم کرنے میں ناکام رھا تو میں نے اسے واپس گود میں گرا لیا
یہ کیا ھے؟
فلسفہ..
کس چیز کا فلسفہ؟
محبت کا فلسفہ، سول میٹس کا فلسفہ، دو روحوں کے درمیان کمیسٹری کا فلسفہ ۔ ۔ جب دو عالم ارواح کے باسی وھاں کے "میٹس" یہاں ملتے ھیں نا تو کس طرح ایک دوسرے کے ادھورے وجود کو مکمل کرتے ہیں ۔ ۔ جگسا پزل کے دو ٹکروں  جیسے، جو بظاہر دیکھنے میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف لگتے ہیں لیکن جب آپس میں ملتے ہیں تبھی ان میں چھُپی تصویر کو معنی ملتے ہیں ۔ ۔ سول میٹس بھی ایسے ہی ہوتے ہیں دیکھنے میں الگ الگ لیکن اکھٹے ہوں تو ان کی شخصیت کا اصل رنگ سامنے آتا ہے ۔
اس کی آنکھوں میں موجود استھزا،تضحیک بے اعتباری نے میرے جملوں کو بریک لگا دی...
بینچ کے اوپر موجود درخت سے کوئی پتا بے آواز گرا تھا...کہ یکایک اس کی آواز کی اداسی اور لہجے کی یاسیت نے طلسم توڑا...
ہممم____ محبت کا بھی فلسفہ ہوتا ھے؟
شائد!
کسی کو پانے کے بھی اصول ہوتے ہیں...
مجھے لگا وه سوال نہیں پوچھ رہی...وه پرت در پرت کھل رہی ہے..
میری خاموشی پر میری طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئی...
چلا گیا وه....
دو ماه پہلے...چار سال پہلے نکاح ہوا تھا...محبت کرتے تھے...ہم، ہم کہتے ہوئے اس کا لہجہ چغلی کھا رہا تھا.
مجھے لگا کسی نے میرے ارد گرد ایٹمی دھماکے کر دیے ہوں...انیس بیس سال کی وه لڑکی...جس عمر کی لڑکیاں ابھی خواب دیکھنا شروع کرتی ہیں اس میں وه خوابوں سے دستبردار بھی ہو گئی...
مجھے شاک میں دیکھ کر بولی....
وه کہتا ھے...تم میرے ساتھ نھیں چل سکتی...ہماری کیمسٹری نہیں ملتی...
تم ہر وقت ہنستی رہتی ہو.مجھے ہر وقت ٹھٹھے لگاتی لڑکیاں زہر لگتی ھیں ۔.
سنجیده لڑکیاں پسند ہیں مجھے، پریکٹیکل تمہارے جیسی بیوقوف نہیں.
وه مجھے موقع تو دیتا میں اس کے ساتھ چل کر دکھاتی...بتائیے کیا کمی ھے مجھ میں؟؟
میں نظریں چرائے سامنے چڑیا کو درخت کی شاخوں کے درمیاں اڑتے ہوئے دیکھنے لگی...جیسے اس کے سوالوں کے جواب ابھی آسمان سے ہی نہ اترے ہوں...
اور اترتے بھی کیسے..
بے وفائی کے جواز نہیں ہوتے۔ ۔ ۔
سحرش

Tuesday, January 12, 2016

بابا کی رانی


ان لڑکیوں کی بھی مجھے سمجھ نھیں آتی...جو گھر والوں کے لیے بابا کی رانی اور "باھر والوں" کے لیے....سم ونز پرنسسز کا آئیڈی بناتی ھیں
اور ان دونوں میں عجیب متضاد دنیائیں بسا رکھی ھوتی ھیں....
گھر والے اکاؤنٹ پر لسنگ تاجدار حرم...
اور باھر والے پر ایم سو لونلی...
گھر والے پر فیلنگ الحمدلله...
اور...
باھر والے پر لائف سکس....(life sucks)
گھر والے پر واچنگ کیو ٹی وی...
اور باھر والے پر فیفٹی شیڈز آف گرے.....
گھر والے اکاؤنٹ کا سٹیٹس....آئی لو کوکنگ....
اور باھر والے کا لو ٹو ھینگ آؤٹ ود بڈیز.....
کیا پاگل پن ھے؟؟؟
مسنگ سم ون باھر والے پر اور مائی فیملی مائی ورلڈ گھر والے پر......
ھم تو ایک بات جانتے ھیں....بنو اگر اس " سم ون" کو گھر والوں کے سامنے اپنا نہیں سکتی نا تو تمھارے تعلق میں کوئی گڑ بڑ ضرور ھے....اور اگر اپنا نہیں سکتی تو مس کرنے کا بھی حق مشکوک ہی سمجھو۔۔ بی بنو....
اور اگر ایم سو لونلی سننا ھے نا تو ڈنکے کی چوٹ پر سنو وگرنہ تاجدار حرم پر گزارا کرو اپنے بابا کی رانی.....اس بابا کو بھی مان ھے تم پر ذرا دھیان میں رھے گڑیاکہ......
پرندے ڈر کے اوڑھ جائیں تو پھر لوٹا نھیں کرتے.....
یقین اٹھ جائے....شائد تو پھر واپس نہیں آتا....ہواؤں کا کوئی طوفاں کبھی بارش نھیں لاتا.....
اور ہاں......
لہجے برف ھو جائیں تو پھر پگھلانہیں کرتے.....
تو لو سنو بنو سو باتوں کی ایک بات.....فیس بک کرو استعمال جم جم کرو.....پر یہاں بھی دھیان میں رھے کہ......
تم "بابا کی رانی ھو".....
سحرش

مزاح پارے


امان نے ھماری دھشت گردی کے خلاف خاموش ضرب عضب شروع کر دیا..اماں کے ہتھیاروں میں وه چینی بھی شامل تھی جو وه روز نماز کے بعد دم کرتیں اور ھمارے دودھ کسٹرڈ میں ملا دیتیں ساتھ ھی ساتھ ہمیں ماریو گیم بھی ایک کی بجائے ڈیڑھ گھنٹہ کھیلنے کی اجازت دی جانے لگی...
ھم بھی اس تبدیلی کو قبول کرگیے اور اب خود کو ٹارزن کی بجائے عمروعیار سمجھنے لگے...جس کی زنبیل میں سارے ایسے ھتیار تھے جس سے کسی نہ کسی کزن کو تڑپا تڑپاکر مارا جانا مقصود ھوتا...ضرب عضب سے حالات کافی معمول پر آگیے...ھمارے کزنز سے اور اماں کے ان کی امیوں سے 
تعلقات استور ھونے لگے.لیکن بچپن کی (تلخ و شیریں شیریں ھمارے لیے اور تلخ متاثرین کے لیے) یادیں کبھی نہ بھول پائے ھم
سحرش

Empty and broken, I was alone

آج سہ پہر اکیڈمی جاتے ھوۓ....قطره قطره درختوں پر گرتی بارش اور درختوں کی اوٹ سے جھانکتی گھروں کی بالکونیاں بالکونیوں میں اکا دکا کھڑے بچے اور....تار کول کی لمبی خاموش سڑک دیکھ کے میں بے ساختہ کہہ اٹھی الله کا شکر ھے آج موسم بہت خوبصورت لگ رھا ہے
ھے.....گرمی کی شدت بھی کم ھے اور مناظر بھی کیسے پر سکون ھیں....
لیکن ذیلی سڑک مڑکے ریلوے سٹیشن پیچھے والی سڑک جھان ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتی جھونپڑیاں ھیں....وھاں پہنچتے ہی مجھے موسم کی بدصورتی کا شدت سے احساس ھوا....
کسی جھونپڑی کا سامان باھر پڑا تھا تو کہیں بچے سامان کے ساتھ باھر پڑے تھے....کہیں کوئی مریض بوڑھا اور مریل کتا ایک ہی ٹاٹ پر پڑے تھے....
تارکول کی لمبی سیاه سڑک یکایک جلنے لگی تھی....
دو متضاد دنیاؤں کے درمیان یہ تارکول کی سڑک ہی تو تھی....
جس پر چلتی ھوئی اے سی والی گاڑی میں بیٹھے ھوئے پیدل چلنے والے ہمیں احمق دکھائی دیتے ھیں....
ھم کالا چشمہ لگا کر سمجھتے ھیں کہ فضاء میں سرمئی پن ھے....
برانڈز پہن کر مجھے ادھ ڈھانپا ہوا ستر جنگلی لگتا ھے....
اپنے نرم جوتوں میں ہمیں ننگے پیروں کی چبھن ہی محسوس نہیں ہوتی......
سوچیں اگر یہ تارکول کی درمیانی سڑک نہ رھی تو.....
سحرش

In Serach Of Inner Mystery




زمین پر تنہا آدمی اور اس کی رفیق ایک عورت کن کے حاکم کا غصہ اور معافی مانگنے ھمراه لے گئے ایک عورت کو
شقی القلب نمرود اور ابراھیم (علیہ السلام) کا ساتھ دینے کو ساره ایک عورت....
گود میں نبی ( علیہ السلام) ھے بیابان دشت بھی جس کی ویرانی سے گھبرا جائےوه لق و دق صحرا....اور نبی کی حفاظت پر معمور کون....ایک عورت....
صبر ایوب کے پیچھے ایک عورت کی محنت و مشقت..
موسی علیہ السلام کی مخافظ عورت....ان کو فرعون کے محل تک بحفاظت پہنچانے پھر وہاں تدبیر بتانے والی عورت....
عیسی علیہ السلام کی تن تنہاپرورش کرنے والی عورت....
شعیب علیہ السلام کی عزت و آبرو کی محافظ بکریوں کے ریوڑ کو چرانے والی عورت....
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا سفر تجارت ارینج کرنے والی عورت....
وحی پر دلاسہ دینے والی کمبل اوڑھانے والی مال خرچ کرنے والی عورت....
عمر رض جیسے ایڈمنسٹریٹر کو مہر کے احکام بتانے والی عورت....
عثمان رض کے ساتھ جان جان آفرین کے سپرد کرنے والی عورت...
اور....تمھیں جنم دینے والی اپنے وجود میں سینچنے والی عورت.....
اور تم کہتےھو.....یہ میری برابری کرنے کے قابل نھیں.( ھاں بھئی نبیوں ولیوں سے معتبر جو ٹھرے نعوذ باللہ)......یہ جواب دے تو اس کو مارنے کا حق مخفوظ رکھتا ھوں میں....
یہ کسی بات پر اعتراض کرے تو مجھے خدا کے ساتھ لگے اپنے مجاز کے لاحقے کو ہٹا دینا پڑتا ھے....
تم کہتےھو.......ییہ کتنی سانسیں لے گی۔۔ یہ کیسے رنگ پہنےگی ۔۔۔یہ کیسی ہنسی ہنسے گی....یہ سب میں ڈیسائڈ کروں گا....اس کی ذات پر اس کا کوئی اختیار باقی نھیں رھا....کیونکہ الله اور اس کے رسول کو گواه بنا کر میں نے اس کی "ذمہ داری" اٹھائی تھی....لہذا اب یہ اپنے والدین بہن بھائیوں سے قطع تعلقی کرنے کا یہ میرا زمینی خدائی حکم مانے تو میری اناکے شملہ میں چار بل اور پڑتے ھیں.....
یہ میرے اشاره ابرو پر جان دےگی تو بخشش ھوگی اس کی نہیں تو جھنمی ھے یہ عورت....
جھنمی.....آگ میں جلائی جائے گی...جب ادھر آگ میں جلائے جانا ھے تو کیوں نہ ایک زمینی جھنم اس کے لیے میں بنا ڈالوں عادت ھو جائے گی اسے.....
عورت کو مارنے کا حق مخفوظ رکھتا ھوں.....
اگر یہ سوچ ھے نا آپ کی تو پھر جان لیجیے احساس کمتری کی ماری گھٹیا مخلوق ہیں آپ....لھذا میری طرف سے فٹے منہ قبول فرمایئے.....
سحرش..

شکر


پانی کا دوسرا گلاس بھرے سکتے کی سی کیفیت طاری تھی....شفاف شیشے کو گھورتے ھوئے بے ساختہ اس کے رحمان و رحیم ھونے کا احساس ھوا....اور خود کو اس کی رحمتوں کےوسیع سمندرمیں پایا ......
پتا ھے کیوں؟؟؟
کیونکه کہ یہ میرا دوسرا گلاس تھا پانی کا.....اور دنیا میں ایسے لوگ بھی ھیں....جو دوسرا گھونٹ پیتے ھوئے بھی ڈرتے ھیں....کہ کہیں کل کی بجائے آج ھی نہ پھر سے ڈائیلاسسز کروانے پڑ جائیں... 
کبھی گھری سانس لیتے ھوئے سوچا ھے تم نے کہ کتنے بلیسڈ ھو تم.....دنیا میں ایسے لوگ بھی ھیں اگر وه گھری سانس بھر لیں نہ تو ایستھماء کا حملہ ھو جاتا ھے....
تمھیں پتا ھے روز صبح اٹھ کر یہ سوچتے ھوئے عازم منزل ھونا کہ کیا مصیبت ھے.....دراصل کتنی بڑی رحمت ھے.....دنیا میں ایسے لوگ بھی ھیں جو صبح جاگ تو جاتے ھیں پر اٹھ نھیں پاتے......اور کچھ اٹھ بھی جائیں تو کسی "مصیبت" کی طرف جانا نھیں ھوتا انھیں.....
اور......
تم جانتے ھو.......ھر روز جب سورج رخصت لیتا ھے چاند کا فسوں پھیلتا ھے اور تمھارا سسٹم اس کے ساتھ ساتھ خودکار طریقے سے چلتا ھے....تو یہ رحمت کی کونسی منزل ھے.....نہیں شائد تم نھیں جانتے....
سنو کچھ لوگوں کے سسٹم میں رات آ کر ٹھر جاتی ھے....اور پھر ان کے ہاں سورج غروب نہیں ھوتا....جب تم سات گھنٹے سونے کے بعد نیند کی کمی کی شکائت کرتے ھو نا......تب وه بھتر گھنٹے پورے کر چکے ھوتے ھیں مسلسل جاگنے کے.......
کیا پھر بھی تمہیں نہیں لگتا کہ...وه محبت کرتا ھے تم سے...
سحرش

پنجابی برگر ممی


پنجابی برگر امیوں کے اپنی اولاد کی روزمره گوشمالی کے عموما تین یا چاردرجے ھوتے ھیں...
جو ماں کی قوت برداشت پر منحصر ھوتا ھے...لیکن اس تربیتی پروگرام کا تیسرا یا چوتھا یعنی کے آخری درجہ تاثیر میں آب حیات ھے....یعنی پھر بچہ ماں کی حکم عدولی کرنے کے متعلق سوچ بھی نھیں سکتا.....
اور چونکہ پنجابی بچے بھی اپنی ھنس مکھ...(ڈھیٹ+ بدتمیز) طبیعت کے ھاتھوں مجبور ھوتے ھیں..لھذا 
زمین جنبد زماں جنبد نہ جنبدگل محمد کے مصداق ھمیشہ آخری درجے پر ھی باز آنے کا کشت کرتے ھیں....
آپ سب لوگوں کی پرزور فرمائش جو کہ ابھی آپ لوگوں نے کرنی تھی یہ پڑھ کے...اور معلومات عامہ واسطے وه تین درجے مفصل بیان کیے جاتے ھیں....
پنجابی برگر مدرز بی لائک....پہلا درجہ....
1 Awwwww my baby....no,Stop doing this sweetheart bad manners....
دوسرا درجہ.....
نھیں کرو بیٹا بری بات.....آنٹی کیا کھیں گی....
تیسرا فائنل درجہ....
میں ھن چپیڑ مارنی منہ تے....جنامنہ ویکھو اوناں وگڑدے نے....سوغاتاں میرے واسطے ای ره گئیں سان....آ لین دو پیو نو.....
میری جان نو سیاپا پا کے او کڈے سکون اچ اے.....آواز نہ آئے ھن کسے دی....
نوٹ :کوئی بھی مماثلت یا مطابقت اتفاقی و حادثاتی ھو گی....
سحرش

برکت


تمھیں پتا ھے...ھر الزام ھر گالی واپس آجاتی ھے
واپس آجاتی ھے؟؟؟
 کہاں سے....
ارے پگلے دینے والے کے پاس...الزام لگانے والے کے اوپر پلٹ آتا ھے.....یہ دنیا گنبد کے جیسی ھےیہاں جو بھی بولو گے اس کی بازگزشت سنو گے
ھو سکتا ھے آج اس کی زبان سے نکلنے والے الزام کی نوک پر تم ھو.....اور یہ بھی عین ممکن ھے کل وه اس الزام سے اپنے کسی پیارے کو بچاتا ھو....
تم الزام پر دل گرفتہ مت ھوا کرو بس اپنا فیصلہ اس قادرو مطلق کی عدالت میں لے جایا کرو....اس سے کھا کرو تیری دنیا میں بہت آزار سے ھوں.....حل نکال اب.....اور پھر اس کا حل نکلنا دیکھا کرو بس
ھاں ایک اور بات.....اس الزام کی برکت بھی بہت ھوتی ھے....
اور اب تم یقیننا ھنسو گے....کہ برکت کیسی.....تو سنو برکت ایسی کہ.....جب کوئی تم پر الزام لگاتا ھے نا اور تم بدلے میں حسبنا الله کی ڈھال سے اس کا تیر روک لیتے ھو.....جب تم بدلے میں الزام نھیں لگا تے....تو پتا ھے پھر کیا ھوتا ھے؟؟؟؟
پھر سوره نور اپنی پوری حقانیت سمیت زنده ھو جاتی ھے.....
پھر تمھارے کے دفاع پر وه قادر و مطلق اتر آتا ھے.....وه پھر تمھارے گناه گار کو اپنا گناهگار سمجھتا ھے.....پتا ھے وه تب تک معاف نھیں کرتا جب تک تم معاف نھیں کر دیتے......اور اس کا معاف نہ کرنا کیسا ھوتا ھے؟؟؟ فرعون کی ممی جیسا عبرت ناک....شیطان کی عمر جیسا نہ ختم ھونے والا....اور ابو جھل کے جھل جیسا مار ڈالنے والا....
اور وه تمھارے گناه گار کا فیصلہ بھی تم پر چھوڑتا ھے چاھےتم حشر کی صبج ھی کیوں نہ کرو....
اب تم ھی بتاؤ یہ برکت نہ ھوئی....
اور اس الزام کے بدلے میں وه انعام دیتا ھے تمھیں....وه تمھارے ملزم والے پیریڈ میں خودشناسی دیتا ھے تمھیں....دوست کی پرکھ کراتا ھے......اور اپنا قرب دیتا ھے....اب بتاؤ ھے کہیں اور ایسی برکت....؟؟؟
سحرش

بےحسی کا عنوان

اگر نائن ایلیون پر دنیا ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتی ھے ....تو پھر غزه کے لیے حشر کی صبح تک پوری دنیا کو اپنی زبانیں بند کر لینی چاھیں.....
اگر ھولو کاسٹ پر بات کرنا جرم ھے 
تو پھر فلسطین ھولو کاسٹ کا ھولو کاسٹ ھے.....
اگر مہذب دنیا ابھی بھی حقوق کی بات کرتی ھے تو پھر....اس "تہذیب" کو خودکشی کر لینی چاھیے....
اگر اقوام عالم انسانیت انسانیت کا راگ ابھی بھی الاپتی ھیں تو پھر انسانیت کے نئے مفہوم جاری کر دینے چاھییں....
اور اگر ابھی بھی صرف شام میں "جھاد"فرض ھوا ھے ۔
 تو پھر 
آل سعود سے میری  یہ درخواست ھے کہ مجھے اس "وحی"کے مندرجات دیکھائے جایئں.....جو ان پر صرف شام کے جھاد کی فرضیت میں اتری ھے....
اگر ایران اسرائیل کو صرف بغض معاویہ میں دھمکیاں دے سکتا ھے نه تو پھر علی ( رض) کو "کلیم" کرنا چھوڑ دے....
اور اگر ابھی بھی پاکستان نے نہ تسلیم کر کے ھی آنکھیں بند کرنی ھیں تو پھر ایسی آنکھوں سے ھم اندھے بھلے...
سحرش

آگہی کی جانب

خاموشی کائنات کی سب سے بڑی گفتگو ہے... جب کوئی اپنے اندر کی خاموشی کو پا لیتا ہے نا ۔۔تو دنیا کے لفظ ...................... لایعنی ہو جاتے ہیں اس کے لئے ... جیسے سارے حصے کھول کر دیکھ لینے کے بعد کھلونا بے معنی ہوجاتا بچے کیلئے...
کبھی کبھی خاموشی کلام کی حدوں سے آگے بڑھ جاتی ہے اور لفظ مطلب سے اوپر جاتے ہیں چُپ کی صدا میں دونوں جہاں ڈوب جاتے ہیں اور گویا اپنی اوقات کھو دیتے ہیں.... ضروری نہیں ہر بار لفظ بولے جائیں کبھی خاموشی بھی زبان ہو جاتی ہے..بڑی گہری پراسرار گفتگو کرتی ہے یہ چپ....
. خاموشی کی زبان سمجھنے والے دلوں کے حکیم ہوتے ہیں... دنیا کبھی انہیں درویش کبھی صوفی بلاتی.. یہ ہی ہوتے ہیں وہ خاموش گفتگو کرنے والے..رات کی بات اور جگنو کی چمک ایک ساتھ سمجھ جانے والے.....
پر اسرار بندے.....اپنے اندر لگی جنگ کے اکیلے غازی....
سحرش

I carry your heart with me


آؤدوست چلتے ھیں کسی دن منڈین میڈیاکر لائف کو ٹھوکر مار کر اپنی مرضی کا دن گزارتے ھیں....
فرصت کے اس دن میں سیپووں سے موتی چنیں گے....ساحل کی نمی والی دھوپ میں پہروں چلا کریں گے....
چلو نا کسی دن چپوؤں والی کشتی پر دریا پار کرتے ھیں اور دریا کے وسط میں کشتی روک کے دھڑکن کی تال پر سانسوں کے بجتے ھوئے اک تارے کی دھن سنتے ھیں.....چلو ایک دن رنگ نسل جنس سے اوپر اٹھ کے گزارتے ھیں..
کسی پہاڑی کی چوٹی پر نکلتے ھوئے سورج کو یہ جتاتے ھیں که میاں ھم بھی کسی سے کم نھیں....
آؤ.....کسی رات چاند کو چاندنی سے فلرٹ کرتا ھوا دیکھتے ھیں....میں جان بوجھ کے تمھارے مگ میں کافی زیاده ڈال دوں گی تاکہ تم غلام علی کی غزلیں سنتے ھوئے سو مت جاؤ....
آؤ کسی دن پھاڑی چشمے میں پاؤں ڈالے رگوں میں اترتی ھوئی ٹھنڈ محسوس کرتے ھیں.....
تم چلو تو کسی صحرا کی ریت چھانتے ھیں....کسی دشت میں مجنوں کے ھونے کے نشان کھوجتے ھیں.....تم آؤ تو کسی دن چائے کے مگ ھاتھوں میں لیے پھروں سٹڈی میں بیٹھتے ھیں
تم اپنی سوچ کی دھنک لے آنا میں اپنے خیال کا سورج لاؤں گی....پھر کسی نظم پر کسی شاعر پر کسی منطق پر کسی فلسفے پر گھنٹوں لا یعنی بحث کرتے ھیں....تم اپنا نکتہ مت چھوڑنا....میں اپنی منوانے کا عزم لیے رکھوں گی.....آؤ وه جو کونے میں دھرا گملہ ھے اس میں اگنے والی پہلی کونپل کا نام رکھتے ھیں اسے کلی،کلی سے پھول بنتا ھوئے دیکھتے ھیں.....کسی دن لان کی پلاسٹک کی کرسیوں پہ بیٹھے گل دوپھر کو کھلتے جوبن پہ آتے مرجھاتے اور بند ھوتے ھوئے دیکھتے ھیں.....پھر اس کی مختصر زندگی پر بلا وجہ اداس ھوتے ھیں....اداسی زائل کرنے واک پر چلتے ھیں....آؤ نومبر کی گلابی شاموں میں سردی کی آھٹ سننے چھت پر چلتے ھیں....تم آؤ تو کسی دن اس روزمره گزرتی ھوئی زندگی میں سے ایک دن نو سے پانچ جیتے ھیں....
یہ منڈین لائف ھے اسے ٹھوکر پر رکھتے ھیں ھیں کیوں کہ یہ مجھ سے مجھے اور تم سے تمھیں چھین رھی ھے دوست!
تمھیں پتا ھے یہ روٹین میری تمھارے اندر موجزن پانیوں پر کائی بن کر جمی ھے.....آؤ کسی دن اس روٹین کے اس تالاب میں آوارگی کا کنکر اتنے زور سے مارتے ھیں کہ کنکر بھنور در بھنور بناتا کائی کو تحلیل کر دے اور ھمارے اندر موجزن زندگی چلنے لگے.....
سحرش

الیکشن سلیکشن


معاملہ کچھ یوں ھے کہ امن وامان کی صورتحال مائل بہ کشیدگی ھے....ابا کے دوست آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رھے ھیں...اب ھم تو ٹھرے کچے پکے انصافی جو کبھی تو امیدوار کی کریڈیبیلٹی پر شکوک کا شکار رھتے ھیں کبھی ٹکٹوں کی تقسیم پر الجھتے ھیں تو کبھی ھمیں یہ درد سر لاحق ھوتا ھے کہ ایلیکٹیبلز کیوں نھیں لیتی پارٹی....
لیکن محترمہ کو ایسا کوئی درد سر لاحق نھیں ھے...
وه پکی سچی ڈائی ھارٹ انصافین ھیں....ان کا ڈی پی پروفائل واٹس ایپ ٹوئیٹر ھر جگہ پر خان لگا کھڑا ھے....وه دعاؤں میں اپنی سلامتی کم اور خان کی جیت زیاده مانگتی ھیں...اس بات سے آپ ان کی انسیت کا اندازه لگائیے کہ جب سے اس نے سنا ھے خان کہ پاس بھی جرمن شیفرڈ ھے تو اسے اپنی بہن کا پیٹ بھی اچھا لگنے لگا ھے....
الغرض وه انصافین ھیں....
خاتون ھماری نزدیک کی دور رھنے والی بہن ھیں..بزنس سائینس پڑھنے کے باوجود وه ھمیں پولیٹیکل سائنس پڑھانے پر تلی رھتی ھیں...ان کی ٹوٹل پولیٹکل سائنس یہ ھے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا جائے...لھذا وه نہ صرف بزعم خود پولیٹکل سائنٹسٹ ھیں بلکہ "خان کی چیتی" بھی..
اب گھر میں پچھلے دو ھفتوں سے ماحول اکثر قومی اسمبلی جیسا ھو جاتا ھے...جہان سپیکر یعنی اماں....حکومتی ارکان یعنی ابا کی تقریر کے بعد اپوزیشن کا مائیک بند کر دیتی ھیں....اپوزیشن تلملاھٹ میں اپنے ھی مورچے پر حملہ آور ھو کر سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بناتی ھے....ووٹ اقربا پروری پر تقسیم ھو چکا ھے...
لیکن محترمہ اپنے پولیٹکل سٹانس پر قائم ھیں...
ان کو موقف "خریدنے" واسطے پچھلے ھفتے سے ابا کے دوست ایز ٹوکن آف ایلیکشن گھر میں جلیبیاں بھی بھیج رھے ھیں اور خاتون جلیبیاں کھاتے ھوئے اعاده کرتی ھیں کہ ووٹ پی ٹی آئی کا
سحرش

احساس زیاں


وه کیمپ تھا...نھیں پناه گزین کیمپ...ویسا کیمپ نھیں جیسا تم کیمپنگ کرنے ساتھ لے جاتے ھو...وه مختلف تھا...تمھارے کیمپ کی طرح واپس لوٹ جانے کی امید نھیں تھی اس میں...."ڈسکور" کرنے نھیں نکلے تھے اس کے مکین....بے سرو سامانی...بے رحم موسم اور بے بسی....بے بسی پتا ھے کیا ھوتی ھے؟؟؟ بے اختیاری پتا ھے کسے کھتے ھیں؟
جب،جب
اپنی ذات پر بھی اختیار نہ رھے...نومبر کی سرد شام تھی جو لمبی گھری تاریک اور ڈراؤنی رات کہ مہیب سایوں میں اتر جانے کو تھی...
اس کیمپ کے باھر آنکھوں میں امید لیے ایک ٹیلے پر ماں بیٹھی تھی....جو اس انتظار میں تھی کہ خواب غفلت میں سوئی اس وحدت کا کوئی فرد جاگے اور اسے اس کے بچوں کا آشیانہ واپس لوٹا دے...کوئی باپ حقیقت سے نظریں چراۓ کسی گھری سوچ میں گم مغرب میں ڈوبتے سورج کو دیکھ رھا تھا گویا اپنی ھستی کے کھونے کا تماشہ دیکھ رھا ھو....اس کی آنکھوں کی اذیت میں اجتماعی بے حسی کا ننگا رقص تھا...
کیمپ کے اندر کلائی میں ٹھوکر لگی تین چوڑیاں پہنے وه شائد زینب تھی یا پھر آمنہ....نھیں خدیجہ تھی شائد...
جب ھمارے گھروں میں بچیاں پیدا ھوتی ھیں تو کس قدر عقیدت محبت اور احترام سے نام رکھتے ھیں ھم....زینب آمنہ....خدیجہ ھے نا.....!
ھاں خدیجہ تھی وه سراپا وفا سراپا ایثار اور سراپا منتظر....اس شخص کی جس نے اسے رنگ برنگی چوڑیاں پھناتے ھوئے ساتھ جینے ساتھ مرنے کا وعده کیا تھا....اور جب تین دن پھلے اس نے فضاء میں مھکی موت کی بو پر اپنے حدشے واھمے گنوائے تھے تو کتنا بلند قہقہہ لگایا تھا اس نے زندگی سے بھرپور اور بے پرواه لہجے میں بولا تھا..تمھیں اور مجھے کچھ نھیں ھونے والا.....
ھاں!اسی غلط فھمی میں ھی تو ھیں سب کہ "تمھیں اور مجھے" کچھ نھیں ھونے والا...
خوش فہمی کی اسی رنگین تتلی کو پکڑے ھم تب تک قھقھے لگاتے رھتے ھیں جب تتلی اپنے کچے رنگوں سمیت ھماری مٹھی میں ھی دم توڑ دیتی ھے اور موت،موت کی چاپ ھماری دھلیز پر سنائی دینے لگتی ھے...
پھر ھم چلاتے ھیں امت امت....مسلماں بھائی بھائی ھیں...ایک امت......
لیکن افسوس اس وقت کہیں کوئی امت نھیں ھوتی...پتا ھے کیوں؟؟؟
کیوں کہ خوش نمارنگوں کی تتلیاں ہجرت کر کے اب نئے خوش فہم کے ھاتھ میں ھوتی ھے...
اور کیمپ لگے رھتے ھیں بس حسرت زده چہروں، ویران اور وحشت زده آنکھوں کی شناخت بدل جاتی ھے
کبھی شامی کبھی افغانی کبھی پاکستانی کبھی فلسطینی کبھی لبنانی کبھی اردن یمنی تو کبھی برما!
دیکھو تو کوئی بھی شناحت ھو....میرے بچے اپنا بچپن کھو رھے ھیں...سنو تو سھی خدیجہ، زینب آمنہ فاطمہ رقیہ سکینہ کی وحشت زده آنکھوں سے نکلنے چیخیں ان کے نوحے سنو تو سہی...
تمھارا دل نھیں پھٹتا جب کیمپ کے باھر کوئی ماں اپنی آنکھوں کی امید کھوتی ھے....سنو! مائیں تو مایوس نھیں ھوتیں...
ضمیر ایک پل کو بھی نھیں جاگتا؟؟؟ جب کسی کڑیل جوان کی لاش پر باپ "بےحس" ذمہ دار کا کردار ادا کرتے ھوئے واپس کیمپ میں چلا آتا ھے.....کیمپ وہی....اجتمائی بے حسی والا....
سحرش

ناسٹیلجیا



مختلف وقتوں اور موقعوں پر لی گئی تصویروں کو دیکھ کر ھم مختلف ا حساسات کا شکار ھوتے ھیں....مسکراھٹ خوشی پرائڈ..ناسٹیلجیاء
اس تصویر کو دیکھ کر در آنے والے محسوسات شائد ناقابل بیان ھیں....
لیکن ایک چیز بڑی شدت سے محسوس ھوئی که آپ که بچپن کے چلے جانے کا ایک اور بھی نقصان ھوتا ھے....صرف آپ ھی بڑے نھیں ھو رھے ھوتے....آپ کے بچپن کھونے کے مرحلے میں کوئی اپنی جوانی کھو رھا ھوتا ھے....
آپ کے ساتھ ساتھ کوئی بوڑھا ھو رھا ھوتا ھے....ھمیں کبھی احساس ھی نھیں ھوتا کہ یہ دو لوگ جو اپنی ھستی ھماری ذات میں گھول رھے ھیں یہ اتنے بے غرض کیسے ھیں....آج اس تصویر کو بار بار دیکھ کر وه احساس کھوجا ھے میں نے ابا کے چھرے کے نرم تاثرات میں جو محبت ھے شائد وه انھیں اپنی زندگی کی بہترین دن تیاگ دینے پر مجبور کرتی ھے...ھاں شائد محبت اتنی ھی طاقتور ھوتی ھے.....جو ابا کی گود میں بیٹھ کہ آنکھوں میں بینگ پروٹیکٹو فیلنگ ھے وه جو وری فری بے ساختہ سمائل ھے....اور وه جو چھرےپر شرارت ھے ۔۔۔یہ سب محبت ھی تو ھے...
پر یہ اس محبت کا عشر عشیر بھی نھیں جو ابا کے لمس میں ھے....جو امی کی دعاؤں میں ھے....کتنے بے غرض ھیں یہ کتنے مخلص....کتنے کنسرنڈ.....
کاش میرے لفظ میرا ساتھ دیتے اور میں لکھ پاتی...
سحرش

پاسپورٹ


سڑک کے ایک طرف پاسپورٹ کا دفتر ھے تو دوسری طرف قبرستان.....پاسپورٹ کے دفتر کی عمارت نئی تعمیر ھوئی ھے....تین منزلہ عمارت میں شیشے کی کھڑکیاں اور ساؤنڈ پروف دروازے بھی ھیں شائد
قبرستان کی چار دیواری اکثر جگہوں سے ٹوٹ چکی ھے.....
روز ان دو انتہاؤں کے درمیان سے گزرتے ھوہوئے پاسپورٹ آفس زندگی سے بھرپور نظر آتا تھا.....کل سے پہلے مجھے بھی لگتا تھا پاسپورٹ پر ویزا لگوانا بہت بڑی اچیومنٹ ھوتی ھے....شائد.
لیکن کل........ہاں کل کے بعد سے مجھے لگنے لگا ھے.....ویزا تو ھمارا روز ازل کا لگچکا....ھم تو بس درمیانی مہلت طے کر رھے ھیں....جیسے باری کے انتظار والا کرتا ھے....
کل سے ایسا لگ جیسے پاسپورٹ آفس کا کوئی بغلی دروازه ھو....جو قبرستان میں جا کرکھلتا ھو.....زمینی طور پر شائد یہ ممکن نھیں.....لیکن یہ خیال آرھا ھے کہ.....پاسپورٹ کے دفتر کا ایگزٹ ڈور یہاں کھلتا ھوگا..... "پاسپورٹ آفس میں داخل ھونے والا ھر شخص ایونچلی اس دروازے پر پہنچ جاتا ھوگا.
وه ایک روزمره کی روٹین والا عام منظر تھا....قبرستان کے دروازے پر لوگ لوگوں کے چہروں پر جلدی کرو کا اشتہار۔موت سے وابستہ کچھ روزگار....اور "روزگار" کو آتا دیکھ کر مطمئن چہرے.
اس پر شور منظر میں دو خاموش آنکھیں سب کو زندگی کی اوقات سمجھانا چاه رھی تھیں.وه زندگی جس کے بل پر ھم اپنی ذات میں فرعون بنے پھرتے ھیں...ان آنکھوں میں صاف لکھا تھا ھر فرعون مٹی میں جا سوتا ھے...وه زندگی جس میں ھم لمبے لمبے نام ناموں کے ساتھ ذاتیں ڈگریاں قبیلے لکھتے نھیں تھکتے..وه زندگی جب انجام کو پہنچتی ھے تو دو سطروں کا ایک کتبہ ھوتا ھے اور "آخری" جی آخری آرام گاه ھوتی ھے..آنکھوں میں سے سمجھاتے اس شخص کاشائد مہلت ختم ھو جانے والے سےتعلق اور اس کے تعلق کی گہرائی اسے اس پرشورمنظر کا حصہ نھیں بننے دے رھی تھی.زندگی کی اوقات سمجھاتے ھوئے تاثرات والی آنکھوں والے اس وجود نے تھکے تھکے قدم اٹھائےاور سڑک پار کی اور پاسپورٹ آفس کی سیڑھیوں پر جا بیٹھا....جیسے اسے آج کسی کام کی جلدی نہ ھو.
سحرش

کچھ وفا کے بارے میں

شئکسپئر جب کہتا ھے نا بے وفائی عورت کا دوسرا نام ھے...تو اس کا یہ مطلب نھیں ھوتا کہ دنیا کی ھر عورت میں سے وفا ختم ھو گئی ھے..اس کا مطلب یہ ھوتا ھے کہ جتنی عورتوں سے اس کا پالا پڑا تھا ان میں وفا عنقاء تھی...
سو اس نے اپنے تجربے کی روشنی میں اپنے محسوسات بیان کیے جو بحرحال قابل احترام ھیں..
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اسے باوفا عورت مل جاتی تو کیا وه اپنی رائے نہ بدلتا؟؟؟ 
یقیننا وه اپنی رائے ری وزٹ کرتا....
سو پیارے لوگوں اگر ایک ڈس آنیسٹ بندے سے پالا پڑے تو اس کا یہ مطلب نھیں ھوتا کہ تمام عمر ھیملٹ کی چلاتے پھرو...تلخ تجربوں کو یاد ضرور رکھو پر سر پر سوار مت کر لو کہ آئنده ملنے والے ھر نئے شخص میں پرانے "آدمی" کی پرچھائیں ڈھونڈتے پھرو
اور پوری کی پوری کمیونٹی یا جینڈر پر الزام دھر دو...جہاں اچھے لوگ ملیں ان کے بارے میں اگر اچھی رائے نھیں بھی رکھ سکتے تو کم از کم بری مت رکھو....
سحرش

سولہ دسمبر کے نام

دیکھ رہے ہو تم؟؟؟ اگر تم زنده ہو تو کیا تمہاری آنکھ بینائی کا کام دے رہی ہے؟؟؟
اور اگر زمین تمہارے وجود کے بوجھ سے آزاد ہو چکی ہے تو جس عالم جس حال میں ہو تم کیا وہاں کی کوئی کھڑکی یہاں کھلتی ھے؟؟؟
اگر ہاں تو دیکھو زنده ہیں ہم
اگر نہیں تو آؤ میں تمہیں بتاتی ہوں
دیکھو تم نے جو خواب ایک سو بتیس آنکھوں سے چھینے تھے وه خواب آج بیس کروڑ آنکھوں کے مکین ہیں تم امنگیں چھیننے آئے تھے افسوس تم نے اوقات سے بڑا سپنا دیکھا تھا جس کا انجام صرف ذلت تھی...تمہیں یاد ھے ایک سال پہلے جب تم نے خون کا رنگ سفید کرنا چاہا تھا...تو کیا ہوا ایک سو بتیس معصوم جانوں نے مجھے میرے خون کا رنگ بتایا....بیس کروڑ نے اپنے خون کا رنگ جانا جو سفید نہیں تھا.میں داستاں مختصر کروں تو یہ کہ تم ہار گئے ہو...ہار گئے....ہار کا مفہوم سمجھتے ہو؟؟
 خوف کے سوداگر تمہاری جنس کی قدر کم ہو گئی ہے. تم جس کی تجارت میں مصروف تھے وه جنس ارزاں ہو گئی ہے اتنی ارزاں کہ اب کوئی خریدار نہیں بچا اس کا...تم اتنا خوف بیچ چکے ہو کہ ہمیں اب ڈر نہیں لگتا...آج سے ایک سال پہلے تک تم ہمارے لیے خوف کا استعارہ تھے...اب اپنی تحقیر کا عالم چیک کرو کہ تم ہماری نفرت کے بھی قابل نہیں رہے...سنو ہم تم سے نفرت بھی نہیں کرتے...جاؤ تمہیں نفرت سے بھی آزاد کیا...اب ہمارے اور تمہارے درمیان صرف ایک تعلق بچا ھے....سب سے بڑے منصف کے عدل کا تعلق...تمہیں پتا اس کا عدل کیا ہے؟؟؟
وه کہتا ہے میں کھجور کی گٹھلی کے دھاگے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا...سنو یہ دھاگا میں انگلی پر رکھوں تو دوسری انگلی کو اس کی موجودگی کا احساس نہ ہو...ایسا عدل...ہاں ایسا عدل...
تم اس کائینات کے وه "واحد شخص" ہو جس کے حق میں ہم وه عدل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ...ہم چاہتے ہیں ہم تمہارا انجام اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھیں...یا پھر یہ کہ میں چاہتی ہوں تمہارے حق میں جب بےآواز لاٹھی حرکت میں آئے تو میں اس کی چشم دید گواه ھوں۔۔۔ تم مر کے بھی چین نہ پاؤ....میں چاہتی ہوں تم میرے عہد کے فرعون ہو جاؤ....تمہاری لاش پر لوگ آتے جاتے عبرت پکڑیں...اور پھر اس پر ہی بس نہیں میں اس پر کافی پیتے ہوئے تبصره بھی کرنا چاہتی ہوں....میرے بچوں کے معصوم چہروں پر گولیاں برسانے والو آؤ دیکھو...جنگ کی تھی نا تو سامنے آ کہ لڑو...تم فوج سے کیا لڑو گے تم تو اس ماں کے ضبط سے لڑنے کے قابل نہیں جس نے تین جوان لعل کھوئے تھے اور کہا تھا جاؤ الله کی امان میں دیا...
تم اس باپ کے حوصلے کے سامنے ٹھہر جاؤ تو تمہیں بھی انسان مان لوں....وه جس نے اکلوتا بیٹا جوانی میں دفنایا تھا....اور کہا تھا الله کی امانت تھی چلی گئی...
میرا دل چاھتا ہے ایک روتھلیس لغت ہو اس میں ہر لفظ ظالم کے منہ پر تھپڑ کی طرح لگے...میں اس لغت کے سارے لفظوں سے مضمون لکھوں تمہارے حمائتیوں کی چہروں پر طمانچے کی طرح لگنے والا مضمون..اور پھر میں اس مضمون کو نفسا نفسی کے عالم میں ہاں حشر میں تمہارے خلاف درخواست کی صورت جمع کرادوں اور اس پھر عادل کا عدل ہوتا ہوا دیکھوں.
سحرش