یہ ان دنوں کا قصہ ھے جب ہم شدت سے یونی پولر سسٹم کے حق میں تھے
اور چونکہ ھماری یونی پولیرٹی جو چیلنج کرنے واسطے ھمارے اردگرد ھر رنگ نسل سائز اور ٹائپ کا کزن موجود تھا جس سے کسی بھی وقت ھمارے اقتدار کو خطره لاحق ھو سکتا تھا...ان خطرات کے تدارک واسطے ھم نے نہایت عمده سٹیرٹیجی ترتیب دے رکھی تھی...ھم نےتمام ویٹو پاورز یعنی دادا دادی تایا اور ابا سے نہایت حوشگوار تعلقات استور کر رکھے تھے...
لہذا ہمیں ھمیشہ اسرائیل کی طرح ٹریٹ کیا جاتا....
ھم بھی اس سٹیٹس سے بھرپور فائده اٹھاتے اور ھر وقت کہیں نہ کہیں محاذ کھولے رکھتے...گرمیوں کی چھٹیاں ھماری فیورٹ ھوتیں کیونکہ اس میں ٹارگٹس کی تعداد میں اضافہ ھو جاتا تھا...ھم نہایت انصاف سے اور برابری کی بنیاد پر صبح اور شام اپنے ایک کزنز کی کٹ لگاتے اور بھاگ کر دادا کے کمرے میں پناه گزیں ھو جاتے...دادا کی کمرے کی دھلیز پر کبھی ھماری کوئی پھپھو کبھی تائی یا کوئی دوسری خاتون کھڑی ھمیں کینہ توز نظروں سے گھور رھی ھوتی اور یہ خاتون وھی ھوتیں جن کے لعل کو ھم تازه بہ تازه لال کر کے آئے ھوتے...ھماری اماں کے سوا کسی خاتون کی جرات نہ تھی دادا کو جا کر ھمارے کارنامے گوش گزار کرتیں اماں جب سوشل پریشر سے گھبرا کر متاثره فریق سمیت کمرے میں قدم رنجہ فرماتی۔ ھم فورا لسانی کارڈ استمال کرتے....اردو سپیکنگ ھونے کی وجہ سے ھم ھمیشہ اپنی مظلومیت ثابت کر دیتے وفاق کے ظلم گنواتے اور متاثره فریق صرف پنجابی بولنے کی وجہ سے غاصب کہلایا جاتا....اور دادا شیر بن شیر کہتے ھوئے کیس ڈس مس کر دیتے...
یہ صورتحال ایسے ھی چلتی رھتی جو ایک دن ھم اپنے کلاس فیلو کو دیوار میں دے مار ڈاکٹر کواس کے سر میں ڈیزایننگ کرنے کا مواقع نہ فراھم کر دیتے...گو کہ باگ ذرا سی تھی صرف چار ٹانکے...
لیکن بات عمر بھر کی تھی...سو اماں نے ھمارا علاج ڈھونڈ لیا....اور یوں ھم نے عمرو عیار کے قصوں کی پہلی کتاب پڑھی..
سحرش
No comments:
Post a Comment