آج سہ پہر اکیڈمی جاتے ھوۓ....قطره قطره درختوں پر گرتی بارش اور درختوں کی اوٹ سے جھانکتی گھروں کی بالکونیاں بالکونیوں میں اکا دکا کھڑے بچے اور....تار کول کی لمبی خاموش سڑک دیکھ کے میں بے ساختہ کہہ اٹھی الله کا شکر ھے آج موسم بہت خوبصورت لگ رھا ہے
ھے.....گرمی کی شدت بھی کم ھے اور مناظر بھی کیسے پر سکون ھیں....
لیکن ذیلی سڑک مڑکے ریلوے سٹیشن پیچھے والی سڑک جھان ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتی جھونپڑیاں ھیں....وھاں پہنچتے ہی مجھے موسم کی بدصورتی کا شدت سے احساس ھوا....
کسی جھونپڑی کا سامان باھر پڑا تھا تو کہیں بچے سامان کے ساتھ باھر پڑے تھے....کہیں کوئی مریض بوڑھا اور مریل کتا ایک ہی ٹاٹ پر پڑے تھے....
تارکول کی لمبی سیاه سڑک یکایک جلنے لگی تھی....
دو متضاد دنیاؤں کے درمیان یہ تارکول کی سڑک ہی تو تھی....
جس پر چلتی ھوئی اے سی والی گاڑی میں بیٹھے ھوئے پیدل چلنے والے ہمیں احمق دکھائی دیتے ھیں....
ھم کالا چشمہ لگا کر سمجھتے ھیں کہ فضاء میں سرمئی پن ھے....
برانڈز پہن کر مجھے ادھ ڈھانپا ہوا ستر جنگلی لگتا ھے....
اپنے نرم جوتوں میں ہمیں ننگے پیروں کی چبھن ہی محسوس نہیں ہوتی......
سوچیں اگر یہ تارکول کی درمیانی سڑک نہ رھی تو.....
سحرش
ھے.....گرمی کی شدت بھی کم ھے اور مناظر بھی کیسے پر سکون ھیں....
لیکن ذیلی سڑک مڑکے ریلوے سٹیشن پیچھے والی سڑک جھان ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلتی جھونپڑیاں ھیں....وھاں پہنچتے ہی مجھے موسم کی بدصورتی کا شدت سے احساس ھوا....
کسی جھونپڑی کا سامان باھر پڑا تھا تو کہیں بچے سامان کے ساتھ باھر پڑے تھے....کہیں کوئی مریض بوڑھا اور مریل کتا ایک ہی ٹاٹ پر پڑے تھے....
تارکول کی لمبی سیاه سڑک یکایک جلنے لگی تھی....
دو متضاد دنیاؤں کے درمیان یہ تارکول کی سڑک ہی تو تھی....
جس پر چلتی ھوئی اے سی والی گاڑی میں بیٹھے ھوئے پیدل چلنے والے ہمیں احمق دکھائی دیتے ھیں....
ھم کالا چشمہ لگا کر سمجھتے ھیں کہ فضاء میں سرمئی پن ھے....
برانڈز پہن کر مجھے ادھ ڈھانپا ہوا ستر جنگلی لگتا ھے....
اپنے نرم جوتوں میں ہمیں ننگے پیروں کی چبھن ہی محسوس نہیں ہوتی......
سوچیں اگر یہ تارکول کی درمیانی سڑک نہ رھی تو.....
سحرش
No comments:
Post a Comment