Tuesday, January 12, 2016

احساس زیاں


وه کیمپ تھا...نھیں پناه گزین کیمپ...ویسا کیمپ نھیں جیسا تم کیمپنگ کرنے ساتھ لے جاتے ھو...وه مختلف تھا...تمھارے کیمپ کی طرح واپس لوٹ جانے کی امید نھیں تھی اس میں...."ڈسکور" کرنے نھیں نکلے تھے اس کے مکین....بے سرو سامانی...بے رحم موسم اور بے بسی....بے بسی پتا ھے کیا ھوتی ھے؟؟؟ بے اختیاری پتا ھے کسے کھتے ھیں؟
جب،جب
اپنی ذات پر بھی اختیار نہ رھے...نومبر کی سرد شام تھی جو لمبی گھری تاریک اور ڈراؤنی رات کہ مہیب سایوں میں اتر جانے کو تھی...
اس کیمپ کے باھر آنکھوں میں امید لیے ایک ٹیلے پر ماں بیٹھی تھی....جو اس انتظار میں تھی کہ خواب غفلت میں سوئی اس وحدت کا کوئی فرد جاگے اور اسے اس کے بچوں کا آشیانہ واپس لوٹا دے...کوئی باپ حقیقت سے نظریں چراۓ کسی گھری سوچ میں گم مغرب میں ڈوبتے سورج کو دیکھ رھا تھا گویا اپنی ھستی کے کھونے کا تماشہ دیکھ رھا ھو....اس کی آنکھوں کی اذیت میں اجتماعی بے حسی کا ننگا رقص تھا...
کیمپ کے اندر کلائی میں ٹھوکر لگی تین چوڑیاں پہنے وه شائد زینب تھی یا پھر آمنہ....نھیں خدیجہ تھی شائد...
جب ھمارے گھروں میں بچیاں پیدا ھوتی ھیں تو کس قدر عقیدت محبت اور احترام سے نام رکھتے ھیں ھم....زینب آمنہ....خدیجہ ھے نا.....!
ھاں خدیجہ تھی وه سراپا وفا سراپا ایثار اور سراپا منتظر....اس شخص کی جس نے اسے رنگ برنگی چوڑیاں پھناتے ھوئے ساتھ جینے ساتھ مرنے کا وعده کیا تھا....اور جب تین دن پھلے اس نے فضاء میں مھکی موت کی بو پر اپنے حدشے واھمے گنوائے تھے تو کتنا بلند قہقہہ لگایا تھا اس نے زندگی سے بھرپور اور بے پرواه لہجے میں بولا تھا..تمھیں اور مجھے کچھ نھیں ھونے والا.....
ھاں!اسی غلط فھمی میں ھی تو ھیں سب کہ "تمھیں اور مجھے" کچھ نھیں ھونے والا...
خوش فہمی کی اسی رنگین تتلی کو پکڑے ھم تب تک قھقھے لگاتے رھتے ھیں جب تتلی اپنے کچے رنگوں سمیت ھماری مٹھی میں ھی دم توڑ دیتی ھے اور موت،موت کی چاپ ھماری دھلیز پر سنائی دینے لگتی ھے...
پھر ھم چلاتے ھیں امت امت....مسلماں بھائی بھائی ھیں...ایک امت......
لیکن افسوس اس وقت کہیں کوئی امت نھیں ھوتی...پتا ھے کیوں؟؟؟
کیوں کہ خوش نمارنگوں کی تتلیاں ہجرت کر کے اب نئے خوش فہم کے ھاتھ میں ھوتی ھے...
اور کیمپ لگے رھتے ھیں بس حسرت زده چہروں، ویران اور وحشت زده آنکھوں کی شناخت بدل جاتی ھے
کبھی شامی کبھی افغانی کبھی پاکستانی کبھی فلسطینی کبھی لبنانی کبھی اردن یمنی تو کبھی برما!
دیکھو تو کوئی بھی شناحت ھو....میرے بچے اپنا بچپن کھو رھے ھیں...سنو تو سھی خدیجہ، زینب آمنہ فاطمہ رقیہ سکینہ کی وحشت زده آنکھوں سے نکلنے چیخیں ان کے نوحے سنو تو سہی...
تمھارا دل نھیں پھٹتا جب کیمپ کے باھر کوئی ماں اپنی آنکھوں کی امید کھوتی ھے....سنو! مائیں تو مایوس نھیں ھوتیں...
ضمیر ایک پل کو بھی نھیں جاگتا؟؟؟ جب کسی کڑیل جوان کی لاش پر باپ "بےحس" ذمہ دار کا کردار ادا کرتے ھوئے واپس کیمپ میں چلا آتا ھے.....کیمپ وہی....اجتمائی بے حسی والا....
سحرش

No comments:

Post a Comment