نرم مزاج ھمدرد طبیعت کے حامل "بوڑھے آدمی" نے مسکرا کر دیکھا اور نرم گفتار لہجے میں پوچھا....کیا ھم دوست بن سکتےھیں چھوٹی لڑکی.....لڑکی جو اپنی علمیت جھاڑنے کے خبط میں مبتلا تھی نے حسب عادت اپنی چھوٹی سی ناک سکور کر کہا نہیں! میں اجنبیوں سے دوستی نھیں کرتی....
بوڑھا آدمی مسکرایا اور چل دیا....
لڑکی نے بھی غیر معمولی نہ گردانا ایک لحظے کو سوچا اور بولی دوست بناتو لوں مگر مجھے بے تکلفی پسند نھیں۔۔۔ یاد رہے
بوڑھے کی نرم مسکراہٹ میں اثبات تھا.....حد میں رہنے کا
اب لڑکی کے پاس علمیت جھاڑنے اور اپنی مغرور باتوں کی داد لینے کو ایک بے غرض شخص میسر تھا
دوستوں کا دوست....بلکہ بعض اوقات دشمنوں کا دوست بھی۔۔۔ بوڑھا آدمی آنکھوں میں کئی ان کہی، ان سنی، باتوں کا گہرا تاثر لیئے بلند آھنگ قہقہے لگاتا....
اور لڑکی اپنی بے وقوفی کے باوجود اس احساس کی کھوج میں لگ جاتی
لڑکی کے خیال میں یہ دوستی جسے سرے سے وه دوستی نہیں مانتی تھی۔۔ نہیں چلنے والی تھی....
پر رفتہ رفتہ بوڑھا آدمی سنتیاگو کا سمندر بن کے اس کی کشتی میں در آیا
سمندر سا وه شخص جو چپ چاپ بہتا تھا۔ جسے کناروں سے باھر کی دنیا سے شائد ھی کوئی غرض رھی ھو، نے لڑکی کو سمندر سے لگاؤپر مجبور کر دیا....سنتیاگو کی کشتی دھیرے دھیرے سرکتی رھی....جس کی رفتار سنتیاگو کی عمر جیسی اور کارکردگی اس کے چھوٹے شاگرد کے ذھن جیسی تھی جس میں ھر روز ایک نیا جہان آباد تھا۔۔ جاننے کے لیے
ادراک کے اس دور میں سنتیاگو کے سمندر نے نک چڑھی سینڈریلا کو اپنے خول سے باھر نکلنے پر بھی آماده کر لیا....اور کوکون کو توڑ کر باھر آنے والی لڑکی سنتیاگو کے لیے سراپا مشکل بن گئی....وه جو چھوٹی لڑکی تھی۔۔ بڑے بڑے پلرز ہلانے لگی.....سنتیاگو کے سمندر سا وه شخص دوست کھونے لگا....کیوں کہ
کہا جانے لگا ھمارے اور تمھارے تعلق کی میان میں ایک تلوار ره سکتی ھے....لڑکی کی انا پر گہری چوٹ کی مانند لگنے والے اس جملے نے.....اسے یہ جاننے میں مدد دی کہ اب وه چاه کر بھی سمندر سے باھر نھیں جا سکتی....سمندر کا نمک ھی دراصل اس کا جیون ھے....جیسے نمکین پانی کی مچھلی ھوتی ھے ۔جسے دریا کے میٹھے پانی میں چھوڑا جائے تو فورا تڑپ کر مر جاتی ھے۔۔ ویسے ھی سمندر اس کے لیے ضروری ھو گیا تھا
اس عجیب تعلق میں ہر وه احساس تھا جو انسانی میرا مطلب ھے انسانی تعلق میں ھوتا ھے....عزت کا محبت کا خیال کا اور پرواه کا....سمندر اگر اس کشتی کو برداشت کرتا ھے جو اس پر چلتی ھے تو کشتی بھی سمندر کو خود میں در آنے سے نھیں روک سکتی....
جیسے صحرا میں چلنے والا مسافر ھوتا ھے....جس میں اورصحرا میں کوئی فرق باقی نھیں ره جاتا بلکل ویسے ھی بوڑھے اور چھوٹی لڑکی کے تعلق کی نوعیت تھی....
سنتیاگو کا سمندر اور سنتیاگو کی کشتی اپنی ڈگر پر رواں ھیں....اس بات سے بے خبر کہ قسمت کی دیوی کے پاس انھیں دینے کے لیے کیا ھے...
سحرش
نوٹ : کوئی بھی مشابہت یا مطابقت محض اتفاقی ھو گی
یہ اوپن اینڈڈ ھے آپ سب لوگوں کو اس کے خاتمے کے لیے تجاویز دینے کی آزادی ھے..
No comments:
Post a Comment