Tuesday, January 12, 2016

پاسپورٹ


سڑک کے ایک طرف پاسپورٹ کا دفتر ھے تو دوسری طرف قبرستان.....پاسپورٹ کے دفتر کی عمارت نئی تعمیر ھوئی ھے....تین منزلہ عمارت میں شیشے کی کھڑکیاں اور ساؤنڈ پروف دروازے بھی ھیں شائد
قبرستان کی چار دیواری اکثر جگہوں سے ٹوٹ چکی ھے.....
روز ان دو انتہاؤں کے درمیان سے گزرتے ھوہوئے پاسپورٹ آفس زندگی سے بھرپور نظر آتا تھا.....کل سے پہلے مجھے بھی لگتا تھا پاسپورٹ پر ویزا لگوانا بہت بڑی اچیومنٹ ھوتی ھے....شائد.
لیکن کل........ہاں کل کے بعد سے مجھے لگنے لگا ھے.....ویزا تو ھمارا روز ازل کا لگچکا....ھم تو بس درمیانی مہلت طے کر رھے ھیں....جیسے باری کے انتظار والا کرتا ھے....
کل سے ایسا لگ جیسے پاسپورٹ آفس کا کوئی بغلی دروازه ھو....جو قبرستان میں جا کرکھلتا ھو.....زمینی طور پر شائد یہ ممکن نھیں.....لیکن یہ خیال آرھا ھے کہ.....پاسپورٹ کے دفتر کا ایگزٹ ڈور یہاں کھلتا ھوگا..... "پاسپورٹ آفس میں داخل ھونے والا ھر شخص ایونچلی اس دروازے پر پہنچ جاتا ھوگا.
وه ایک روزمره کی روٹین والا عام منظر تھا....قبرستان کے دروازے پر لوگ لوگوں کے چہروں پر جلدی کرو کا اشتہار۔موت سے وابستہ کچھ روزگار....اور "روزگار" کو آتا دیکھ کر مطمئن چہرے.
اس پر شور منظر میں دو خاموش آنکھیں سب کو زندگی کی اوقات سمجھانا چاه رھی تھیں.وه زندگی جس کے بل پر ھم اپنی ذات میں فرعون بنے پھرتے ھیں...ان آنکھوں میں صاف لکھا تھا ھر فرعون مٹی میں جا سوتا ھے...وه زندگی جس میں ھم لمبے لمبے نام ناموں کے ساتھ ذاتیں ڈگریاں قبیلے لکھتے نھیں تھکتے..وه زندگی جب انجام کو پہنچتی ھے تو دو سطروں کا ایک کتبہ ھوتا ھے اور "آخری" جی آخری آرام گاه ھوتی ھے..آنکھوں میں سے سمجھاتے اس شخص کاشائد مہلت ختم ھو جانے والے سےتعلق اور اس کے تعلق کی گہرائی اسے اس پرشورمنظر کا حصہ نھیں بننے دے رھی تھی.زندگی کی اوقات سمجھاتے ھوئے تاثرات والی آنکھوں والے اس وجود نے تھکے تھکے قدم اٹھائےاور سڑک پار کی اور پاسپورٹ آفس کی سیڑھیوں پر جا بیٹھا....جیسے اسے آج کسی کام کی جلدی نہ ھو.
سحرش

No comments:

Post a Comment