تمھیں پتا ھے...ھر الزام ھر گالی واپس آجاتی ھے
واپس آجاتی ھے؟؟؟
کہاں سے....
ارے پگلے دینے والے کے پاس...الزام لگانے والے کے اوپر پلٹ آتا ھے.....یہ دنیا گنبد کے جیسی ھےیہاں جو بھی بولو گے اس کی بازگزشت سنو گے
ھو سکتا ھے آج اس کی زبان سے نکلنے والے الزام کی نوک پر تم ھو.....اور یہ بھی عین ممکن ھے کل وه اس الزام سے اپنے کسی پیارے کو بچاتا ھو....
تم الزام پر دل گرفتہ مت ھوا کرو بس اپنا فیصلہ اس قادرو مطلق کی عدالت میں لے جایا کرو....اس سے کھا کرو تیری دنیا میں بہت آزار سے ھوں.....حل نکال اب.....اور پھر اس کا حل نکلنا دیکھا کرو بس
ھاں ایک اور بات.....اس الزام کی برکت بھی بہت ھوتی ھے....
اور اب تم یقیننا ھنسو گے....کہ برکت کیسی.....تو سنو برکت ایسی کہ.....جب کوئی تم پر الزام لگاتا ھے نا اور تم بدلے میں حسبنا الله کی ڈھال سے اس کا تیر روک لیتے ھو.....جب تم بدلے میں الزام نھیں لگا تے....تو پتا ھے پھر کیا ھوتا ھے؟؟؟؟
پھر سوره نور اپنی پوری حقانیت سمیت زنده ھو جاتی ھے.....
پھر تمھارے کے دفاع پر وه قادر و مطلق اتر آتا ھے.....وه پھر تمھارے گناه گار کو اپنا گناهگار سمجھتا ھے.....پتا ھے وه تب تک معاف نھیں کرتا جب تک تم معاف نھیں کر دیتے......اور اس کا معاف نہ کرنا کیسا ھوتا ھے؟؟؟ فرعون کی ممی جیسا عبرت ناک....شیطان کی عمر جیسا نہ ختم ھونے والا....اور ابو جھل کے جھل جیسا مار ڈالنے والا....
اور وه تمھارے گناه گار کا فیصلہ بھی تم پر چھوڑتا ھے چاھےتم حشر کی صبج ھی کیوں نہ کرو....
اب تم ھی بتاؤ یہ برکت نہ ھوئی....
اور اس الزام کے بدلے میں وه انعام دیتا ھے تمھیں....وه تمھارے ملزم والے پیریڈ میں خودشناسی دیتا ھے تمھیں....دوست کی پرکھ کراتا ھے......اور اپنا قرب دیتا ھے....اب بتاؤ ھے کہیں اور ایسی برکت....؟؟؟
سحرش
No comments:
Post a Comment