Tuesday, January 12, 2016

شکر


پانی کا دوسرا گلاس بھرے سکتے کی سی کیفیت طاری تھی....شفاف شیشے کو گھورتے ھوئے بے ساختہ اس کے رحمان و رحیم ھونے کا احساس ھوا....اور خود کو اس کی رحمتوں کےوسیع سمندرمیں پایا ......
پتا ھے کیوں؟؟؟
کیونکه کہ یہ میرا دوسرا گلاس تھا پانی کا.....اور دنیا میں ایسے لوگ بھی ھیں....جو دوسرا گھونٹ پیتے ھوئے بھی ڈرتے ھیں....کہ کہیں کل کی بجائے آج ھی نہ پھر سے ڈائیلاسسز کروانے پڑ جائیں... 
کبھی گھری سانس لیتے ھوئے سوچا ھے تم نے کہ کتنے بلیسڈ ھو تم.....دنیا میں ایسے لوگ بھی ھیں اگر وه گھری سانس بھر لیں نہ تو ایستھماء کا حملہ ھو جاتا ھے....
تمھیں پتا ھے روز صبح اٹھ کر یہ سوچتے ھوئے عازم منزل ھونا کہ کیا مصیبت ھے.....دراصل کتنی بڑی رحمت ھے.....دنیا میں ایسے لوگ بھی ھیں جو صبح جاگ تو جاتے ھیں پر اٹھ نھیں پاتے......اور کچھ اٹھ بھی جائیں تو کسی "مصیبت" کی طرف جانا نھیں ھوتا انھیں.....
اور......
تم جانتے ھو.......ھر روز جب سورج رخصت لیتا ھے چاند کا فسوں پھیلتا ھے اور تمھارا سسٹم اس کے ساتھ ساتھ خودکار طریقے سے چلتا ھے....تو یہ رحمت کی کونسی منزل ھے.....نہیں شائد تم نھیں جانتے....
سنو کچھ لوگوں کے سسٹم میں رات آ کر ٹھر جاتی ھے....اور پھر ان کے ہاں سورج غروب نہیں ھوتا....جب تم سات گھنٹے سونے کے بعد نیند کی کمی کی شکائت کرتے ھو نا......تب وه بھتر گھنٹے پورے کر چکے ھوتے ھیں مسلسل جاگنے کے.......
کیا پھر بھی تمہیں نہیں لگتا کہ...وه محبت کرتا ھے تم سے...
سحرش

No comments:

Post a Comment